اردو
हिन्दी
مئی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کوئی بھی آفت، کوئی بھی وبا ہمارے ہدف سے کیونکر بھٹکاسکتی ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کوئی بھی آفت، کوئی بھی وبا ہمارے ہدف سے کیونکر بھٹکاسکتی ہے؟
29
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: مبارک کاپڑی

کورونا وائرس کی ابتلاء ایک جسمانی وباء ہے۔وہ ہمارے ذہنوں پر کیونکر اثر انداز ہوسکتی ہے؟ ہم اپنی منزل سے کیسے بھٹک سکتے ہیں؟ اب اس ضمن میں ہمیں اعلیٰ درجے کی بصیرت سے کام لینا ہے۔

’اے اسکول تیرے بغیر……‘

خوردبینی جرثومہ کووِڈ-19 نے عالمی سطح پر ناقابلِ تصور حد تک تباہی مچادی۔ سارے نظام تہہ و بالا ہوچکے۔ لاکھوں افراد لقمہ اجل ہوگئے، اب سب کے اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں البتہ اس وبا کی بناء پر ڈر، خوف، بے یقینی سمیت جو اَن گنت ذہنی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں اُن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہورہا ہے۔ کووِڈ کے حالات اور لاک ڈاؤن کے کربناک ڈیڑھ سال میں کچھ بڑے ہی ہولناک نتائج کے حامل خیالات و مفروضات جنم لے چکے ہیں، اِن میں سے چندکا جائزہ لے رہے ہیں:۔

ہمیں سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ کسی بھی مفروضے کے تخلیق کار والدین ہوتے ہیں، والدین چاہتے بھی ہیں کہ اُن کے بچے اُن مفروضات کے وارث بن جائیں۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ لگ بھگ دو سال کے وائرس و لاک ڈاؤن کے دَور میں (۱) تعلیمی ادارے مکمل بند رہے (۲) درس و تدریس کے متبادل نظام یعنی آن لائن کلاسوں میں کہیں بھی طلبہ کی حاضری پچاس فیصد سے زائد نہیں رہی (۳) والدین کی اکثریت نے آن لائن تعلیم کے حصول کے لیے ضروری اسمارٹ فون، وائی فائی وغیرہ کی ضرورت پر سنجیدگی نہیں برتی(۴)والدین کی ایک بڑی اکثریت اس پر مطمئن بلکہ خوش بھی ہوئی کہ اب اسکول کی فیس دینے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ (۵) والدین کی اس اکثریت نے یہ نہیں سوچا کہ تعلیمی اداروں کے بند ہونے سے اُن کے بچّوں کی تعلیم کا کتنا نقصان ہوا۔ وہ محض اِ س بات پر خوش ہوگئے کہ اُن کی فیس کی رقم بچے گی (۶) اس پر تحقیق تو یقینا ہونی چاہئے کہ اپنے بچّوں کا کریئر تباہ ہونے پر افسوس کرنے کے بجائے اسکولوں کی فیس ادا نہ کرنے پر خوش ہونے کی یہ ذہنیت ہمارے یہاں آخر کیسے پیدا ہوگئی؟

کورونا وائرس کی وبا لگ بھگ رُخصت پذیر ہے البتّہ ہمارے معاشرے کے والدین (اور اُنہی کے انداز میں سوچنے والے طلبہ) کے ذہن پر ایک نیاوائرس قبضہ کر چکا ہے اور وہ یہ خیال ہے کہ ڈیڑھ سال سے ہمارے بچے اسکول ؍کالج نہیں گئے، اس لیے اُن کا یا ہمارا کیا بگڑا؟ آئندہ بھی اگر وہ تعلیم سے ناطہ توڑے رہیں گے تو کیا بگڑے گا؟ جی ہاں کورونا کے بعد یہ ہوا کہ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر کسی نوکری، ملازمت اور کاروبار سے جُڑ جانے کا خواب دیکھا جانے لگاہے؟ارے بھئی کیسے ممکن ہے یہ؟ علم و تعلیم بیزاری کی بناء پر پوری قوم اُس کا خمیازہ عالمی سطح پر بھگت رہی ہے۔ پتہ نہیں کیوں اور کیسے یہ ذہنیت ہمارے یہاں پنپتے نظر آرہی ہے کہ ایس ایس سی کے بعد چار چھ سال والے کسی مضبوط کریئر پر توجّہ دینے کے بجائے ہی سوچا جارہا ہے کہ ہر روز دِن کے آخر میں پانچ سو یا ہزار روپئے آجائیں اور چولہا جلتا رہے۔ اب ہمارے نوجوانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ گھر کے چولہے کا ایندھن بننے سے انکار کردیں۔ اُنھیں یاد یہ رکھنا ہے کہ زندگی میں آسان راستے بڑے جاذب لگتے ہیں اور دلفریب بھی مگر وہ زندگی ہی کیا جس میں جدّوجہد نہ ہو۔ کورونا نے ذہن پر یہ اثر بھی ڈالا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ’فریب‘ سے نکل کر جھٹ پٹ کاروبار کئے جائیں۔ اسی ذہنیت کے تحت ہمارے یہاں اب تک گیرج، کباڑی کی دکانیں، پاورلوم اور فٹ پاتھ کے بزنس وجود میں آتے گئے۔ اور ہماری قوم کارپوریٹ و جدید کاروبار سے محروم ہوتے گئے۔ روزانہ کی کمائی اور 9بجے سے5بجے والے جاب کی ذہنیت پروان چڑھتی گئی۔ اس طرح ہماری قوم کی برسوں بلکہ صدیوں پُرانی ریسرچ و تحقیق کی روایت کہیں بالکل کھوگئی مگر نوجوانو! اب نہیں، اب ہرگز آپ کو ”اے اسکول تیرے بغیر“ کا تباہ کن تجربہ نہیں کرنا ہے۔ کورونا وائرس یا کوئی بھی وبا اس قدر طاقتور کیسے بن سکتی ہے کہ ایک قوم کا ایجنڈا ہی تبدیل کردے؟ اُس کی منزل گرداب یا بھنورمیں پھنس جائے؟ نوجوانو! آپ کے والدین کچھ زیادہ ہی عجلت میں ہیں مگر اب آپ کو بے پناہ صبر اور اعلیٰ درجے کی بصیرت کا مظاہر کرنا ہے۔ جسمانی قوتِ مدافعت کی بحالی کے لیے ویکسین وجود میں آئے بھی ہیں البتہ بے حوصلگی،پست ہمتی، احساسِ کمتری اور غیر دُور اندیشی کی ذہنی بیماریوں کے لیے کوئی بھی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔

’ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہئے‘

لفظ ’خودی‘ کی تشریح میں لُغت بھی انصاف نہیں کرپاتی۔ نہ جانے کس بناء پر وہ اُسے انانیت، غرور، تکبّر اور خود غرضی سے تعبیر کرتی ہے۔ دراصل خودی کی اصل تشریح صرف اقبال کے کلام میں ملتی ہے۔ اسرار خودی کے دیباچہ میں وہ رقم طراز ہیں کہ خودی کا مطلب ہے عرفانِ نفس اور خودشناسی۔ اس کا ادراک ہمارے معاشرے میں نہ ہونے کی بناء پر لوگ خودی کے نام پر اکثر حماقتوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ہم مثال دینا چاہیں گے اعلیٰ تعلیم دلانے کے عمل میں ہمارے رویّے کی۔ ہماری قوم میں اس کے لیے چونکہ بجٹ اور بچت کا کوئی تصوّر نہیں اس لیے اگر کسی بچّے کے اعلیٰ کورس کے لیے بالغرض ایک لاکھ روپے کی ضرورت آن پڑی اب اتنی بڑی رقم کی اُمّید کسی ٹرسٹ، کسی ادارہ یا کسی فرد سے بھی نہیں رکھی جاسکتی۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ دس عزیز واقارب یا رشتہ داروں کی فہرست تیار کی جائے جن سے دس دس ہزار روپے کی قرضِ حسنہ کی مدد مل سکے۔ اب یہاں بنیادی طور پر یہ مفروضات آڑے آتے ہیں:

(۱)ہم کیوں کسی سے مانگیں؟ (بچّوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے جو سنہرہ موقع فراہم ہوا ہے، اُس سے استفادہ کرنے کے لیے کسی سے مدد مانگنے میں کیاقباحت ہے؟)

(۲)ہم کیوں کسی کا احسان لیں؟ (جسے احسان کہا جاتا ہے، دراصل وہ ایک سماجی ضرورت ہے۔ آخر سماج بناہی اس لیے ہے)

(۳) لوگ اپنا احسان جتائیں گے (اس میں کیا قباحت ہے۔ آخر آپ چھپانا کیوں چاہتے ہیں کہ کسی نے آپ کی مدد کی ہے

(۴) مگر احسان؟ (سماج میں ہمیشہ کسی نہ کسی کا احسان لینا ہی پڑتا ہے۔”ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہئیے“ یہ بات بڑے طمطراق سے کہنے والے افراد بھی اپنی زندگی کا آخری سفر چار افراد کے کندھوں پر طے کرتے ہیں اور اُن کندھوں کا احسان و ہ کبھی ادا نہیں کرپاتے)

(۵)کسی کے مدد کے احسان آخر پھر اداکیسے ہوں گے؟ (ہر وقت یہ یاد رکھیں کہ ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے، یہ نیت رکھنے سے وہ احسان ادا ہوجائیں گے)

اپنا علم، اپنی نعمتیں آپس میں بانٹنے اور بانٹتے رہنا سماجیات و عِمرانیات کا حصّہ ہے۔ خودی، خودداری کی غلط تشریح کرنے والے اس کو سمجھیں، خصوصاً ہمارے معاشرے میں علم کے پھیلاؤ کے لیے!

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN