تجزیہ: پروفیسر عبدالمقتدر
بھارت کے حوالے سے امریکہ کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ وہ ہندوستان کو بہت اہم سمجھتا ہے، خاص طور پر چین کو متوازن کرنے کے نقطہ نظر سے۔ تاہم امریکی سیاست دان مودی کو زیادہ پسند نہیں کرتے، سوائے تلسی گبارڈ جیسے قدامت پسند لیڈروں کے۔
لیکن بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کئی امریکی رہنما کہہ چکے ہیں کہ یہ اس صدی کا سب سے اہم رشتہ ہے۔
اگر بھارت چین کے خلاف پوری طرح امریکہ کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو مغرب اور امریکہ کا عالمی غلبہ پوری 21ویں صدی تک قائم رہے گا۔
لیکن اگر بھارت امریکہ کے خلاف ہو کر چین اور روس سے ہاتھ ملاتا ہے تو اس صدی میں مغربی تسلط ختم ہو جائے گا۔ اس لیے بھارت امریکہ کے لیے بہت اہم ہے۔
اب بیرونی ممالک کے لیے مودی سے نمٹنا بہت مشکل ہو گیا کیونکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کافی جارحانہ ہو چکی تھی، مثال کے طور پر بیرونی ممالک میں قتل و غارت پر تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اب وہ پہلے سے زیادہ خوش ہوں گے کیونکہ مودی کمزور ہو جائیں گے۔
مودی نے گزشتہ جولائی میں امریکہ کا دورہ کیا تھا، جو ان کے بین الاقوامی وقار کی چوٹی تھی۔ لیکن اس کے بعد امریکہ اور کینیڈا میں خالصتانیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی حکومت اور مودی سرکار کا قد متاثر ہوا ہے اور مغرب میں ان پر کافی تنقید ہو رہی ہے۔
رشتوں میں جمود آ گیا ہے۔ تو بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی پوزیشن کمزور رہے گی۔ دوسری طرف خارجہ پالیسی پر راہل گاندھی اور ششی تھرور جیسے لیڈروں کی آواز بلند ہوتی جائے گی۔
اس الیکشن کا امریکی میڈیا میں بھی چرچا ہو رہا ہے اور ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مودی جیتے ہیں لیکن اب انہیں زیادہ معتدل موقف اپنانا ہو گا۔امریکہ میں ہندوستانی کمیونٹی ان نتائج سے تھوڑی مایوس ہے لیکن اس بات پر بھی خوش ہے کہ اس بار بھی مودی جی وزیر اعظم بنیں گے۔(بی بی سی ہندی )
* ڈیلاویئر یونیورسٹی، USA میں ماہر، بین الاقوامی مطالعہ









