مرزا پور :(ایجنسی)
یوپی انتخابات میں بی جے پی کی حالت کا اندازہ رابرٹس گنج کے بی جے پی ایم ایل اے بھوپیش چوبے کی اس حرکت سے لگایا جاسکتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران چوبے کان پکڑ کر اسٹیج پر اُٹھک بیٹھک لگائی۔ یہ کارنامہ انہوںنے مذاق میں نہیں انجام دیا ہے۔ رابرٹس گنج میں ساتویں اور آخری مرحلے میں پولنگ ہونی ہے۔ یہ علاقہ مرزا پور ڈویژن کے تحت آتا ہے۔ پوروانچل میں ساری صورتحال بدل گئی ہے۔
بی جے پی ایم ایل اے بھوپیش چوبے کا کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرتےویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ چوبے کی انتخابی مہم اورروڈ شوروغیرہ میں بھیڑ جمع نہیں ہو رہی تھی۔ وہ اس سے اتنا مایوس ہوئے کہ ایک ریلی میں کرسی مانگ کر اس پر کھڑے ہوگئےاورگزشتہ پانچ سال میں ہوئی غلطیوں کے لئے عوام سے معافی مانگی۔ حالانکہ کچھ لوگوںنے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن ایم ایل اے نہیں مانے ۔
جب بی جے پی کے ایم ایل اے یہ سب کر رہے تھے تو جھارکھنڈ کے سابق وزیر بھانو پرتاپ شاہی بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ وہ خاص طور پر بھوپیش چوبے کی انتخابی مہم کے لیے آئے تھے۔ شاہی نے اپنی تقریر سے ماحول بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے بھوپیندر چوبے کی لڑائی ایس پی-بی ایس پی سے نہیں ہے، ان کی لڑائی اویسی جیسوں کے ساتھ ہے ۔ اس لئے ان کے ہاتھ مضبوط کرنا ضروری ہے ۔ مرزا پور ڈویزن میں سب سے زیادہ کام بھوپیش چوبے نے کیا ہے ۔
بھوپیش چوبے نے یہ حرکت انجام دے کر ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کے اس بیان کو سچ ثابت کردیا ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی کے ایم ایل اے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کریں گے ۔ حالانکہ یہ بیان دیتے ہوئے خود اکھلیش کو ایسے واقعہ کا اندازہ نہیں تھا۔
چوبے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس پر ہر کوئی تبصرہ کر رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ پی ایم مودی اور سی ایم یوگی کا نام اس ایم ایل اے نے ڈبو دیا ہے۔ دونوں اپنی ریلیوں میں لمبی چوڑی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن بھوپیش چوبے نے انہیں بے نقاب کر دیا ہے۔ بی جے پی کے کچھ حامیوں نے لکھا ہے کہ اب ہم عوام کو کیا بتائیں گے۔ ہمارے دعوؤں کا کیا ہوگا؟ اس ایم ایل اے نے کھلم کھلا ہماری توہین کی ہے۔ کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ اگر ایم ایل اے کو اپنی حالت پتلی لگ رہی تھی تو انہیں الیکشن نہیں لڑنا چاہیے تھا۔
تاہم ایم ایل اے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ چوبے نے عوام کو خوش کرنے کے لیے اٹھک بیٹھک لگائی ہے۔ وہ ہمیشہ عوام کے سامنے جھک کر رہتے ہیں ۔










