غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں نے گزشتہ برس عید الاضحی ایسے منائی تھی جیسے عام طور پر منائی جاتی ہے۔ خاندانوں میں دعوتوں کا اہتمام کیا جا رہا تھا۔ کم اجرت والے افراد میں گوشت تقسیم کیا گیا۔ لوگوں نے نئے کپڑے پہنے اور بچوں میں تحائف دئیے جارہے تھے۔
لیکن اس سال اسرائیل اور حماس کے درمیان آٹھ ماہ کی تباہ کن جنگ کے بعد بہت سے خاندان خیموں میں ڈبہ بند کھانا کھا رہے ہوں گے۔ مقامی منڈیوں میں شاید ہی کہیں گوشت ملتا ہو یا کوئی مویشی موجود ہو۔ چھٹیوں میں تحائف کے تبادلے یا نئے کپڑے خریدنے کے لیے رقم ہونا تو دور کی بات لوگ جنگ، بھوک اور ایسی بدحالی میں ہیں جس کے خاتمے کا فوری امکان بھی نظر نہیں آرہا۔
نادیہ حمودہ، جن کی بیٹی جنگ میں ماری گئی تھی اور مہینوں پہلے وہ شمالی غزہ میں اپنے گھر سے فرار ہوکر اب دیر البلح میں ایک خیمے میں رہتی ہے، نے کہا کہ اس سال جب ہم اذان سنتے ہیں تو ان لوگوں کے لیے ہم رو پڑتے ہیں جن کو ہم نے کھو دیا ہے۔ جو کچھ ہم نے کھویا ہے اسے یاد کرتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ہم پہلے کیسے رہتے تھے۔
جنگ سے پہلے بھی غزہ غریب اور الگ تھلگ تھا لیکن گزشتوں سالوں میں یہاں کے مکین رنگ برنگی سجاوٹ لٹکا کر، بچوں کے لیے مٹھائیاں اور تحائف خرید کر عید مناتے تھے۔ گوشت خرید کر یا مویشیوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت غریبوں میں تقسیم کر کے جشن منا سکتے تھے۔ نادیہ نے کہا وہ واقعی عید تھی۔ ہر کوئی خاص طور پر بچے خوش تھے۔ اب غزہ کی پٹی کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں پڑا ہوا ہے اور 23 لاکھ فلسطینیوں میں سے زیادہ تر اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔
مقامی صحت کے حکام کے مطابق جنگ میں 37,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی زیادہ تر زرعی اور خوراک کی پیداوار تباہ ہو چکی ہے۔ لوگوں کو اس انسانی امداد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو اسرائیلی پابندیوں اور مسلسل لڑائی کی وجہ سے بمشکل ان تک پہنچ پاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کو قحط کی بلند ترین سطح کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مئی کے اوائل میں مصر نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح کی طرف جانے والی کراسنگ کو اس وقت بند کر دیا تھا جب اسرائیل نے اس کراسنگ کے فلسطینی حصے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ رفح کراسنگ بند ہونے سے لوگوں کے غزہ کی پٹی میں داخلے اور یہاں سے نکلنے کا واحد راستہ بھی بند ہوچکا ہے۔









