اردو
हिन्दी
اگست 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اُتراکھنڈ کا یونیفارم سول کوڈ مسلمانوں کی زندگیوں کو کیسے متاثر کرے گا؟

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
174
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

’جے شری رام‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعروں کی گونج کے درمیان اُتراکھنڈ کی اسمبلی میں یونیفارم سول کوڈ بِل پیش کر دیا گیا ہے۔
اس مجوزہ قانون کے تحت تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر شادی، طلاق، وراثت میں حقوق وغیرہ جیسے عائلی معاملات پر یکساں قانون کا نفاذ ہو گا۔
فی الحال انڈیا میں سبھی مذاہب کے یہ معاملات اپنے اپنے پرسنل لا کے تحت نمٹائے جاتے ہیں مثلاً اگر کسی مسلمان شخص کا طلاق یا وراثت سے متعلق مسئلہ ہے تو عدالتیں ان کا فیصلہ مسلم پرسنل قوانین کی بنیاد پر کرتی ہیں۔
بی جے پی کے اقتدار والی ریاست اُتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ نے کہا کہ ’يہ بِل آئین ہند کے مطابق بنایا گیا ہے جس کا مقصد سبھی انڈین شہریوں کی بلاتفریق مذہب فلاح ہے اور اس کے بارے میں کسی کو اندیشے کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
یونیفارم سول کوڈ میں ہے کیا؟
اگر اس بل کو منظوری مل گئی تو آزاد بھارت میں اُتراکھنڈ یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے والی پہلی ریاست ہو گی۔ نئے یکساں سول کوڈ بل کے تحت ریاست کے سبھی شہریوں کے لیے یکساں سول قانون کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے اور اس کے قانون بن جانے کی صورت میں شادی، بیاہ، طلاق، زمین، جائیداد اور موروثی حق کے معاملوں میں سبھی شہریوں کے لیے بلاتفریق مذہب یکساں قوانین کا اطلاق ہو گا۔
اس بل کو متعارف کروانے والی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بِل کے تحت جہاں جہاں خواتین کے ساتھ حقوق کے معاملے میں تفریق برتی جا رہی تھی اسے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اسمبلی میں پیش کیے گئے بل میں درج تفصیلات کے مطابق مسلمانوں میں ایک بار میں تین طلاق دینے، حلالہ اور ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ شادیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ بل میں لڑکیوں کو وراثتی جائیداد میں برابر کا حق دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اس نئے قانون کے تحت ہر مذہب کے افراد کو کسی بچے کو گود لینے کا قانونی حق دیا گیا ہے جبکہ لیو ان ریلیشنز (یعنی بغیر شادی کے ساتھ رہنے والوں) کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی لیکن انھیں مقامی پولیس سٹیشن کے ساتھ خود کو رجسٹر کروانا ہو گا۔
بل کے مطابق لیو ان ریلیشنز میں موجود لڑکے اور لڑکی کی عمریں اگر 21 سال سے کم ہیں تو اُن کے والدین کو بھی قانونی طور پر اطلاع دینی ہو گی جبکہ ان کے تعلق سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔
نئے یکساں قانون کے تحت شادی کی قانونی عمر تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے 18 برس رکھی گئی ہے۔ ہر شادی کو قانونی طور پر رجسٹر کروانا لازمی ہو گا جبکہ طلاق کے معاملے میں مرد اور عورت کو برابر کے حقوق ہوں گے۔ وراثتی جائیداد سمیت زمین اور دوسری املاک میں لڑکی کو برابر کا حق حاصل ہو گا اور تقسیم کے سلسلے میں لڑکا یا لڑکی لکھنے کے بجائے ’بچہ‘ لکھا جائے۔
مجوزہ یکساں سول قانون کے تحت سبھی کو گود لینے کا قانونی اختیار دیا گیا ہے۔ مسلم پرسنل لا کے تحت قانونی طور پر گود لینے کا اختیار نہیں ہے۔ مسلم برادری میں گود لیے ہوئے بچے یا بچی کو قانونی طور پر وارث نہیں مانا جاتا۔ مجوزہ قانون کے تحت گود لیے جانے والی بچی یا بچے کو قانونی وارث قرار دیا گیا ہے۔
مسلم مذہبی رہنما ابتدا سے ہی یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ آزادی کے بعد جب آئین وضع کیا جا رہا تھا تو آئین سازوں نے پورے ملک کے شہریوں کے لیے یکساں قوانین نافذ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس وقت ہندو مہا سبھا اور مسلم رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔آئین سازوں نے ملک کے مختلف مذاہب اور ڈائورسٹی کے پیش نظر اسے لازمی قانون کا حصہ نہ بنا کر رہنما اصولوں میں ڈال دیا تھا۔ یہ امید کی گئی تھی کہ مستقبل کی حکومتیں وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مذاہب کے درمیان یونیفارم سول کوڈ کے حق میں رائے عامہ ہموار کر یں گی۔ بعد میں جب بھی کسی حکومت نے یونیفارم سول کوڈ لانے کی کوشش کی یا کوئی بحث چھیڑی تو مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی۔
حکمراں بی جے پی نے عوام سے جو تین وعدے کیے تھے ان میں یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ بھی شامل ہے۔ مرکزی حکومت نے لا کمیشن آف انڈیا کو یونیفارم سول کوڈ وضع کرنے کی ذمےداری دی ہے۔ لا کمیشن نے اس کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر کی ہے جو اس پر کام کر رہی ہے۔
مرکزی وزير ارجن رام میگھوال کہتے ہیں کہ ’لا کمیشن آف انڈیا یونیفارم سول کوڈ پر کام کر رہا ہے۔اور اس میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔‘

لیکن مرکز سے پہلے ریاست میں اس طرح کا قانون لانے کی کیا وجہ ہے۔ مسلم مذہبی رہنما اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اپوزیشن کانگریس نے اس کے بارے میں مبہم موقف اختیار کر رکھا ہے۔ مخالفت میں صرف مسلمان آگے آگے رہے ہیں۔ بی جے پی ایک ریاست میں اس قانون کو لا کر یہ اندازہ لگانا چاہتی ہے کہ اس کی مخالفت کس حد تک جا سکتی ہے انتخابات سے پہلے اسے لانے کو ایک سیاسی قدم بھی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کی مخالفت بنیادی طور پر مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانب سے ہو رہی ہے۔ بی جے پی اس بل کے ذریعے اپنے حامیوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے شادی بیاہ ، طلاق اور دوسرے معاملات کو قانون کی گرفت میں لے لیا ہے جس کی وہ مزاحمت کر رہے تھے۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور شہری حقوق کے علمبردار کالن گونزالس کہتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ بی جے پی کی پالیسی کا حصہ ہے۔
وہ کہتے ہیں ’یہ جو بل وہ اسمبلی میں لائے ہیں اگر اس میں مرد اور عورت کے درمیان مساوات نہیں ہے تو لوگ اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ مثال کے طور پر زرعی زمین کے معاملے میں عورت کے ساتھ تفریق برتی جاتی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’اس قانون میں دیکھنا ہوگا کہ بی جے پی اسے ختم کرتی یا نہیں ۔ اس بل سے یہ معلوم ہو گا کہ بی جے پی عورت کو برابر کا حق دینے کے حق میں ہے یا نہیں۔‘
(بشکریہ بی بی سی ،یہ تجزیہ نگار کی ذاتی رائے ہے )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN