’جے شری رام‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعروں کی گونج کے درمیان اُتراکھنڈ کی اسمبلی میں یونیفارم سول کوڈ بِل پیش کر دیا گیا ہے۔
اس مجوزہ قانون کے تحت تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر شادی، طلاق، وراثت میں حقوق وغیرہ جیسے عائلی معاملات پر یکساں قانون کا نفاذ ہو گا۔
فی الحال انڈیا میں سبھی مذاہب کے یہ معاملات اپنے اپنے پرسنل لا کے تحت نمٹائے جاتے ہیں مثلاً اگر کسی مسلمان شخص کا طلاق یا وراثت سے متعلق مسئلہ ہے تو عدالتیں ان کا فیصلہ مسلم پرسنل قوانین کی بنیاد پر کرتی ہیں۔
بی جے پی کے اقتدار والی ریاست اُتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ نے کہا کہ ’يہ بِل آئین ہند کے مطابق بنایا گیا ہے جس کا مقصد سبھی انڈین شہریوں کی بلاتفریق مذہب فلاح ہے اور اس کے بارے میں کسی کو اندیشے کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
یونیفارم سول کوڈ میں ہے کیا؟
اگر اس بل کو منظوری مل گئی تو آزاد بھارت میں اُتراکھنڈ یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے والی پہلی ریاست ہو گی۔ نئے یکساں سول کوڈ بل کے تحت ریاست کے سبھی شہریوں کے لیے یکساں سول قانون کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے اور اس کے قانون بن جانے کی صورت میں شادی، بیاہ، طلاق، زمین، جائیداد اور موروثی حق کے معاملوں میں سبھی شہریوں کے لیے بلاتفریق مذہب یکساں قوانین کا اطلاق ہو گا۔
اس بل کو متعارف کروانے والی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بِل کے تحت جہاں جہاں خواتین کے ساتھ حقوق کے معاملے میں تفریق برتی جا رہی تھی اسے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اسمبلی میں پیش کیے گئے بل میں درج تفصیلات کے مطابق مسلمانوں میں ایک بار میں تین طلاق دینے، حلالہ اور ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ شادیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ بل میں لڑکیوں کو وراثتی جائیداد میں برابر کا حق دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اس نئے قانون کے تحت ہر مذہب کے افراد کو کسی بچے کو گود لینے کا قانونی حق دیا گیا ہے جبکہ لیو ان ریلیشنز (یعنی بغیر شادی کے ساتھ رہنے والوں) کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی لیکن انھیں مقامی پولیس سٹیشن کے ساتھ خود کو رجسٹر کروانا ہو گا۔
بل کے مطابق لیو ان ریلیشنز میں موجود لڑکے اور لڑکی کی عمریں اگر 21 سال سے کم ہیں تو اُن کے والدین کو بھی قانونی طور پر اطلاع دینی ہو گی جبکہ ان کے تعلق سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔
نئے یکساں قانون کے تحت شادی کی قانونی عمر تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے 18 برس رکھی گئی ہے۔ ہر شادی کو قانونی طور پر رجسٹر کروانا لازمی ہو گا جبکہ طلاق کے معاملے میں مرد اور عورت کو برابر کے حقوق ہوں گے۔ وراثتی جائیداد سمیت زمین اور دوسری املاک میں لڑکی کو برابر کا حق حاصل ہو گا اور تقسیم کے سلسلے میں لڑکا یا لڑکی لکھنے کے بجائے ’بچہ‘ لکھا جائے۔
مجوزہ یکساں سول قانون کے تحت سبھی کو گود لینے کا قانونی اختیار دیا گیا ہے۔ مسلم پرسنل لا کے تحت قانونی طور پر گود لینے کا اختیار نہیں ہے۔ مسلم برادری میں گود لیے ہوئے بچے یا بچی کو قانونی طور پر وارث نہیں مانا جاتا۔ مجوزہ قانون کے تحت گود لیے جانے والی بچی یا بچے کو قانونی وارث قرار دیا گیا ہے۔
مسلم مذہبی رہنما ابتدا سے ہی یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ آزادی کے بعد جب آئین وضع کیا جا رہا تھا تو آئین سازوں نے پورے ملک کے شہریوں کے لیے یکساں قوانین نافذ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس وقت ہندو مہا سبھا اور مسلم رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔آئین سازوں نے ملک کے مختلف مذاہب اور ڈائورسٹی کے پیش نظر اسے لازمی قانون کا حصہ نہ بنا کر رہنما اصولوں میں ڈال دیا تھا۔ یہ امید کی گئی تھی کہ مستقبل کی حکومتیں وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مذاہب کے درمیان یونیفارم سول کوڈ کے حق میں رائے عامہ ہموار کر یں گی۔ بعد میں جب بھی کسی حکومت نے یونیفارم سول کوڈ لانے کی کوشش کی یا کوئی بحث چھیڑی تو مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی۔
حکمراں بی جے پی نے عوام سے جو تین وعدے کیے تھے ان میں یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ بھی شامل ہے۔ مرکزی حکومت نے لا کمیشن آف انڈیا کو یونیفارم سول کوڈ وضع کرنے کی ذمےداری دی ہے۔ لا کمیشن نے اس کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر کی ہے جو اس پر کام کر رہی ہے۔
مرکزی وزير ارجن رام میگھوال کہتے ہیں کہ ’لا کمیشن آف انڈیا یونیفارم سول کوڈ پر کام کر رہا ہے۔اور اس میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔‘
لیکن مرکز سے پہلے ریاست میں اس طرح کا قانون لانے کی کیا وجہ ہے۔ مسلم مذہبی رہنما اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اپوزیشن کانگریس نے اس کے بارے میں مبہم موقف اختیار کر رکھا ہے۔ مخالفت میں صرف مسلمان آگے آگے رہے ہیں۔ بی جے پی ایک ریاست میں اس قانون کو لا کر یہ اندازہ لگانا چاہتی ہے کہ اس کی مخالفت کس حد تک جا سکتی ہے انتخابات سے پہلے اسے لانے کو ایک سیاسی قدم بھی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کی مخالفت بنیادی طور پر مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانب سے ہو رہی ہے۔ بی جے پی اس بل کے ذریعے اپنے حامیوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے شادی بیاہ ، طلاق اور دوسرے معاملات کو قانون کی گرفت میں لے لیا ہے جس کی وہ مزاحمت کر رہے تھے۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور شہری حقوق کے علمبردار کالن گونزالس کہتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ بی جے پی کی پالیسی کا حصہ ہے۔
وہ کہتے ہیں ’یہ جو بل وہ اسمبلی میں لائے ہیں اگر اس میں مرد اور عورت کے درمیان مساوات نہیں ہے تو لوگ اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ مثال کے طور پر زرعی زمین کے معاملے میں عورت کے ساتھ تفریق برتی جاتی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’اس قانون میں دیکھنا ہوگا کہ بی جے پی اسے ختم کرتی یا نہیں ۔ اس بل سے یہ معلوم ہو گا کہ بی جے پی عورت کو برابر کا حق دینے کے حق میں ہے یا نہیں۔‘
(بشکریہ بی بی سی ،یہ تجزیہ نگار کی ذاتی رائے ہے )








