میں ‘یو پی میں کا با’ فیم نیہا سنگھ راٹھور ہوں، ان دنوں میں سوشل میڈیا پر ٹرول ہو رہی ہوں۔ ماں صدمے میں ہے۔ شوہر ہمانشو کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ میری تمام بکنگ منسوخ کر دی گئی ہیں۔ میں ذہنی طور پر بہت پریشان ہوں۔ بلڈ پریشر کم رہتا ہے۔سسرال میں لوگ طعنے دیتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بہو میں بہت غرور تھا۔ 6 ماہ بھی نہ گزرے کہ شادی والے گھر پولیس بلائی گئی، عدالت پہنچ گئی۔ پتہ نہیں وہ آگے کیا کرے گی۔
جس طرح وہ لوگ میرے پیچھے ہیں، اب تو روزی روٹی کی فکر بھی مجھے پریشان کرنے لگی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نیہا گانے کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاۓ لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گی ۔بہت زیادہ ہوا تو دہلی چھوڑنا پڑے گا۔ میں گاؤں واپس آؤں گی۔ کھیتی باڑی کریں گے، لیکن گانا نہیں چھوڑیں گے۔
جب میں نے پہلی بار یوپی میں کا با گایا تو مجھے اتنا ٹرول کیا گیا کہ میں اندر ہی اندر کانپ گئی، لوگوں نے اس طرح زیادتی کی کہ میں بتا نہیں سکتی۔ مجھے اپنے خاندان کے افراد کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنا پڑا، کیونکہ کوئی بھی والدین یہ برداشت نہیں کر سکیں گے کہ کوئی ان کی بہن بیٹی کو طوائف کہے۔
میری اسی وقت منگنی ہو گئی۔ جس طرح سے مجھے ٹرول کیا جا رہا تھا، مجھے ڈر تھا کہ کہیں میری شادی ختم نہ ہو جائے۔ جب میں نے ہمانشو کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی تو لوگ کہنے لگے کہ وہ بھینس سے شادی کر رہی ہے۔ اس کا شوہر بیل ہے، جب کووڈ میں ساس کی موت ہوئی تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ کلچھنی ہے۔ ساس کو شادی سے پہلے کھائی۔۔ میں بہت دباؤ میں آگئی۔شکر ہے کہ ہمانشو اور میرے سسر نے کبھی ان باتوں پر توجہ نہیں دی۔ سسر ہمیشہ کہتے کہ جو ٹھیک لگے وہ کرو نئی بکنگ بھی نہیں آ رہی۔ وہ یہیں چاہتے ہیں کہ میں تنگ آکر گانا چھوڑ دوں، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ بھوجپوری نے مجھے جنم دیا ہے، میں مٹی کی مقروض ہوں۔ میں ایک غریب گھرانے سے ہوں، آخری سانس تک غریبوں کے لیے لڑوں گی، لکھوں گی ور گاؤں گی بھی۔(بشکریہ دینک بھاسکر)








