نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے کہا کہ 2014 میں انہوں نے تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ ’میرے پریوار جنوں‘ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہم وطنوں نے ان پر بھروسہ کیا۔ انہوں نے کہا ’’ آپ سے اپنے وعدے کو یقین میں بدل دیا۔ 2019 میں کارکردگی کی بنیاد پر، آپ نے مجھے دوبارہ نواز ا اور آئندہ 15 اگست کو میں دوبارہ آؤں گا۔۔‘‘
دراصل لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم کی ان کے ان پانچ سالہ اقتدار کی آخری تقریر تھی اس لئے ان کی اس تقریر میں زیادہ ایسا لگا جیسے وہ ملک کے رائے دہندگان سے خطاب کر رہے ہوں ۔
اپوزیشن اور کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے کہا کہ ’’آج خاندان پرستی نے ہمارے ملک کو برباد کر دیا ہے۔ سیاسی جماعت کا انچارج صرف ایک خاندان کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے لیے اس کی زندگی کا منتر ہے – خاندان کی پارٹی، خاندان کے لیے اور خاندان کے لیے۔ ملک کی ترقی کے لیے خاندان پرستی سے آزادی ضروری ہے۔ خوش کرنے کی سیاست نے سماجی انصاف کو مار ڈالا۔ ملک ترقی چاہتا ہے۔ ملک 2047 کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہے۔بدعنوانی نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘
77 ویں یوم آزادی کے موقع پر پی ایم مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے کہا کہ وقت کی ضرورت ملک کو ان تین برائیوں کے خلاف لڑنا ہے – بدعنوانی، خاندان اور خوشامد۔انہوں نے کہا کہ ’’ بدعنوانی کے خلاف لڑتا رہوں گا۔ خاندان پرستی نے ہمارا ملک چھین لیا ہے۔ ہمیں ان تینوں برائیوں کے خلاف پوری قوت سے لڑنا ہے۔ ہمیں ان تینوں برائیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ آج میں لال قلعہ سے آپ کا آشیرواد لینے آیا ہوں۔ آج ہمیں کچھ چیزوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ 2047 میں جب ملک آزادی کے 100 سال کا جشن منائے گا، اس وقت دنیا میں ہندوستان کا ترنگا جھنڈا ترقی یافتہ ہندوستان کا ترنگا پرچم ہونا چاہئے۔‘








