لکھنؤ : (ایجنسی)
سرکاری رہائش گاہ پر اسلامی اسکالر کاجلسہ اور تبدیلی مذہب کے لیے راغب کرنے کے الزام میں پھنسے سینئر آئی اے ایس محمد افتخار الدین کو لے کر ایک اور بڑا انکشاف ہوا ہے ۔ وہ شہر کی بستیوں میں اپنے لوگوں کو بھیج کر غریب و ضرورت مندلوگوں میں مذہبی مواد بانٹوا کر تشہیر وتبلیغ کرتے تھے ۔
تشہیر و تبلیغ کے دوران ان سے وابستہ لوگ عام لوگوں کو مدد دینے کے نام پر تبدیلی مذہب کےجال میں پھنساتے تھے ۔ سی ٹی ایس بستی کے رہنے والے لوگوں نے اس بارے میں بےحد سنگین الزام لگائے ہیں۔ لٹریچر کی ایک کاپی بھی دکھائی۔ محمد افتخار الدین کی تین ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
دو میں وہ خود کچھ لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے دیکھے جارہے ہیں اور ایک میں جلسہ میں شامل شخص تبدیلی مذہب کے فوائد بتارہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سے معاملے میں شکایت ہوئی جس کے بعد منگل کو جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ ابتدائی جانچ میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ویڈیو کان پور واقع ڈویژنل کمشنر کےد فترکی ہیں ۔
یعنی جب وہ کانپور میں ڈویژنل کمشنر کے عہدے پر تھے ، اسی دوران اس طرح کی میٹنگیں منعقد ہوئی تھیں۔ اب مزید تفتیش کی جا رہی ہے کہ اس میں کوئی مجرمانہ فعل ہے یا نہیں۔ آئینی عہدے پر فائز ہوتے ہوئے یہ مناسب ہے یا نہیں۔ اس دوران ایک اہم معلومات ہاتھ لگی ہے۔
افتخار الدین ’شدھ بھکتی‘ نام کے لٹریچر کو لوگوں کو تقسیم کرتے تھے۔ اس کو پڑھنے کے لیے لوگوں کو ترغیب کیا جا تا تھا ۔ سی ٹی ایس بستی کے لوگوں نے اس کی تصدیق بھی کی ہے ۔ اگر یہ بات آگےجانچ میں سچ ثابت ہو تی ہے تو صاف ہو جائےگا کہ پوری سازش کےتحت مذہب کی تبلیغ کی آڑ میں تبدیلی مذہب کا کھیل کیا جا رہا تھا ۔
سی ٹی ایس بستی کے روبی شرما ، نرمل نے بتایا کہ جب محمد افتخار الدین ڈویژنل کمشنر تھے تب وہ ان کے پاس مدد کے لیے گئے تھے ۔ میٹرو کے لیے زمین کے حصول کے حوالہ سے شکایت کی تھی ۔ تب ڈویژنل کمشنر سے ان کو بھگا دیا گیا تھا ۔ کچھ دن بعد ان کی بستی میں لوگ پہنچے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ وہ ڈویژنل کمشنر کے دفتر سے آئے ہیں۔ آپ لوگوں کے تمام مسائل دورکی جائیں گے ۔ یہ کہتے ہوئے شدھ بھکتی نام کی کتابیں تقسیم کی ۔ یہ بھی کہا کہ اگر وہ سب اسلام قبول کرلیں گے تو کبھی بھی کوئی پریشانی نہیں آئے گی۔










