نئی دہلی :(ایجنسی)
میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے اتوار کو ہریانہ کے جند ضلع کے کنڈیلا گاؤں میں کھاپ کی طرف سے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’مجھے خاموش رہنے کے لیے صدر بننے کی پیشکش کی گئی ہے۔ عہدے کچھ بھی نہیں ہوتےہیں۔ میں نے چودھری چرن سنگھ کے ساتھ کام کیا ہے اور وہ مجھے بیٹا کہتے تھے۔ ستیہ پال ملک نے مزید کہا، ’’میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اب سڑکوں پر بیٹھنا اور دھرنا دینا بند کریں۔ اپنی حکومت بنائیں، حکومت بدلیں، کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ستیہ پال ملک نے کہا کہ ’جب ایک کتا مارتا ہے تو دہلی سے ایک خط (تعزیتی پیغام) ہوجاتا ہے۔ ہمارے 700 کسان مر گئے، لیکن ان کے لیے ایک بھی خط (تعزیتی پیغام) نہیں بھیجا گیا۔ وزیر اعظم (پی ایم نریندر مودی) تحریک کے مقام سے صرف 10 کلومیٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں لیکن وہ اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کرنا چاہا۔ جب میں اس سارے واقعے سے ناراض ہوا تو میں نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور تحریک میں حصہ لینے کا سوچا۔ میں مرکزی حکومت کے ایک وزیر کے پاس یہ بتانے گیا کہ میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ غلطی نہ کریں، کسانوں کے لیے بولیں، ان کے لیے لڑیں، دھرنے پر بیٹھیں لیکن استعفیٰ تبھی دینا جب اس کے لئے کہاجائے ۔‘
ستیہ پال ملک نے مزید کہا کہ میں وزیر اعظم سے ملنے گیا تھا۔ میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ پی ایم مودی نے کیا جواب دیا، لیکن یہ بہت تکلیف دہ تھا اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں آخر تک بات کروں گا۔ میرے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اگر آپ خاموش رہیں تو آپ صدر یا نائب صدر بن سکتے ہیں۔ لیکن میں نے کہا کہ میں ایسی پوسٹوں کو لات مارتا ہوں۔
ستیہ پال ملک نے کہا، ’’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2 سال بعد لوک سبھا کے انتخابات ہیں۔ اگر آپ متحد ہو کر ووٹ دیں گے تو یہ سارے لیڈر دہلی سے بھاگ جائیں گے اور وہاں کسانوں کی حکومت ہوگی۔ یوپی کے انتخابی نتائج ابھی تک نہیں آئے ہیں لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مغربی یوپی کے کسی گاؤں میں کوئی وزیر داخل نہیں ہوسکا۔‘‘
گزشتہ سال یوم جمہوریہ پر لال قلعہ پر احتجاج کرنے والے کسانوں کی طرف سے پرچم کشائی کے سلسلے میں ستیہ پال ملک نے کہا،’میں نے کہا تھا کہ ہمارے لڑکوں کو ملک دشمن مت کہو، ان کے خلاف مقدمہ درج نہ کریں، انہوں نے صرف جھنڈے کو وہاں پر لگائے ہیں ۔ وہ کسی سیاسی پارٹی کا جھنڈا نہیں تھا بلکہ نشان صاحب کاتھا۔ نشان صاحب کے لئے ہزاروں سکھوں نے اپنی جان کی قربانی دی ہے ۔‘










