گجرات پولیس نے سنیچر کو پوربندر میں ایک مسجد کے امام کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک آڈیو کلپ کے لیے گرفتار کیا جس میں اس نے مبینہ طور پر قومی پرچم کو سلامی دینے اور قومی ترانہ گانے کے بارے میں اختلاف رائے کا اظہار کیا تھا۔ہندستان ٹائمس نے یہ خبر دی
تفصیلات کے مطابق پوربندر کی نگینہ مسجد کے امام واسد رضا کو شہر میں ایک ریستوراں چلانے والے پوربندر کے رہنے والے عظیم قادری کی شکایت کی بنیاد پر کیرتیمندر پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف ایف آئی آردرج کیے جانے کے بعد گرفتار کیاگیا۔
رضا بہار شریعت نامی واٹس ایپ گروپ کا حصہ تھے، جہاں وہ ایڈمنز میں سے ایک تھے۔ گروپ کے ارکان مذہب سے متعلق مختلف موضوعات پر سوالات کرتے اور رضا ان کے جوابات دیتے۔
ہندوستان ٹائمس نے ڈی ایس پی نیلم گوسوامی کے حوالے سے مزید بتایاکہ "25 اور 26 جنوری کو، دو افراد نے سوالات اٹھائے، ایک اس بارے میں کہ آیا مسلمانوں کو قومی پرچم لہرانا چاہیے اور اگر ایسا ہے، تو کیا انھیں سلامی کرنی چاہیے۔ اس پر مولوی صاحب نے جواب دیا کہ جھنڈا لہرا سکتے ہیں لیکن سلام نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا وہ قومی ترانہ گا سکتے ہیں یا نہیں۔ اس پر مولوی نے ایک آڈیو کلپ میں جواب دیا کہ مسلمانوں کو ‘بھارت بھاگیہ ودھاتا’ اور ‘جیہ ہےجیہ ہے’ جیسے الفاظ کی وجہ سے قومی ترانہ نہیں گانا چاہیے۔ یہ آڈیو کلپس جمعہ کو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا اور شکایت کنندہ کو موصول ہوا جس کے بعد پولیس کارروائی ہوئی-(ان پٹ مکتوب میڈیا)








