نئی دہلی: بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مسجدوں کو اور عبادت گا ہوں کے خلاف مقدمات اور مسماری کی لہر چل پڑی ہے ملک میں دستور اور قانون کو بلائے طاق رکھ کر عبادت گاہوں کومسمار کیا جا رہا ہے نیز کئی عبات گاہوں کومتنازعہ بتا کر ہراساں و پریشان کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے حالانکہ عبادت گاہ ایکٹ کی موجودگی میں ایسا کوئی نھی قدم غیر قانونی ہے پھر بھی یہ سب ہورہا ہے ۔
ملک کی اہم پارٹی سوشلسٹ پارٹی انڈیا نے اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس کے خلاف لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک بھر مہم چلائے گی -پریس ریلیز کے مطابق place of worship act پر اہم اجلاس نئی دہلی کے جواہر بھون ،ڈاکٹر راجندر پرساد روڈ مقابل شاستری بھون ایم ایچ آر روڈ میں ہفتے کو ساڑھے تین بجے سہہ پہر میں کررہی ہے جو شام ساڑھے پانچ بجے تک چلے گا ،اجلاس میں ملک بھر کے دانشور مسئلہ کی اہمیت ،نزاکت اور ضرورت پر روشنی ڈالیں گے اجلاس کی اہمیت کے پیش نظر اہل دانش کی شرکت بہت اہم ہے اس میں آگے کا لائحۂ عمل طے ہوگا
اجلاس کی دعوت سوشلسٹ پارٹی انڈیا کے نائب صدر سید تحسین احمد اور جنرل سکریٹری ڈاکٹر سندیپ پانڈے کے علاوہ آرگنائزر رضوان احمد خاُں نے دی ہے-کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت کی امید ہے








