لاہورروزنامہ جنگ کے مطابق حکومت کو سابق وزیر اعظم عمران خان کو حراست میں لینے کی تجویز دی گئی ہے۔عمران خان کو زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کیا جائے گا اورعمران خان کی نظر بندی کے دوران کسی کو ملنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پی پی آئی کے مطابق عمران کو اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے اور انٹرنیٹ پر تقاریر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ نظر بندی کے حکم کے بعد عمران کی رہائش گاہ زمان پارک کو سب جیل قرار دے دیا جائے
دوسری طرف عمران پر چوُطرفہ دباؤ بڑھتا جارہا ہے آرمی جو ایک وقت بیج فٹ پر نظر آرہی تھی اب فرنٹفٹپر کھیل ر ہی ہے جبکہ سرکار اس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنی ناچ رہی ہے پاکستان اندھی گلی میں گھس گیا ہے
سی دوران ایک اور چونکانے والی خبر آئی ہے وہ یہ کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 9 مئی کو ملک بھر میں تشدد کے سلسلے میں فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ فوجی علاقوں سے متعلق واقعات پر لاگو ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں ان تمام لوگوں کے خلاف لاگو ہوں گی جو رواں ماہ کے اوائل میں محدود فوجی املاک والے علاقوں میں داخل ہوئے، دوسرے لوگوں کو بھیجا یا ان کی حوصلہ افزائی کی۔







