پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر عمران خان کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا اور آج انہیں ضمانت مل گئی ہے۔ مجموعی طور پر دونوں دن عمران خان کے نام رہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں پھوٹنے والے تشدد نے ان کے قد میں اضافہ کر دیا ہے۔ پہلی بار دیکھا گیا کہ لوگ عمران کے لیے فوج سے ٹکراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے بھی اب کھل کر پاکستانی فوج کو للکارنا شروع کر دیا ہے۔ عمران کو بھلے ہی ضمانت مل گئی ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ ان کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بہت دشمنی تھی۔ دونوں کی دشمنی کئی سال پرانی ہے، عمران خان کی ضمانت ہوئی تو میڈیا کے سامنے آگئے۔ اس دوران انہوں نے براہ راست آرمی چیف عاصم منیر کو نشانہ بنایا۔ عمران نے کہا کہ منیر ملک کے لیے دشمن سے زیادہ خطرناک ہو گیے ہے۔ وہ ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ میں نے انہیں کئی بار تنبیہ کی لیکن وہ اپنی حرکات سے باز نہ آیے منیر مجھ سے بہت ڈرتے ہیں لیکن میں انہیں بتا دوں کہ اگر مجھے دوبارہ گرفتار کیا گیا تو پاکستان جل جائے گا۔
عمران خان کے اس بیان سے واضح ہے کہ ان چار دنوں میں ان کی اور پاک فوج کی دشمنی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ عمران خان نے آرمی چیف پر اتنے سنگین الزامات پہلی بار نہیں لگائے۔ انتخابی جلسوں اور میڈیا سے خطاب کے دوران وہ کئی بار آرمی چیف کو آڑے ہاتھوں لے چکے ہیں۔ عمران خان کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ آرمی چیف منیر انٹیلی جنس ایجنسی کی ملی بھگت سے ان کے قتل کی سازش کر رہے ہیں۔
دراصل آرمی چیف عاصم منیر اس سے پہلے آئی ایس آئی کے ڈی جی ہوا کرتے تھے۔ 2018 میں عمران خان نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ منیر کی مدت ملازمت صرف 8 ماہ تھی، اس کے باوجود انہیں زبردستی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد عمران نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر منیر کی جگہ فیض حامد کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنانے کا منصوبہ بنایا،
بتایا جاتا ہے کہ اس وقت عاصم منیر نے عمران کی اہلیہ بشری بی بی کی مبینہ بدعنوانی کے ایک معاملہ کا پردہ فاش کیا تھا،جس کے بعد سے دونوں کے درمیان کھٹاس پیدا ہوگئی۔







