راولپنڈی :ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستانی عدالتوں کو اوپر کے اشاروں کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی جلدی ہے اور آٹھ فروری سے پہلے سارا حساب کتاب چکتا کرنے کے موڈ میں ہیں اسی لئے توشہ خانہ کیس میں فوری سزا دے دی گئی انُ کو موقف رکھنے کا موقع بھی نہیں ملا خبر کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14-14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت نے سماعت کرتے ہوئے بانیٔ پی ٹی آئی کو 10 سال کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا۔
عدالت کی جانب سے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر مجموعی طورف پر 1 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
بانیٔ پی ٹی آئی پر 78 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ بشریٰ بی بی پر بھی 78 کروڑ 70 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔سزا سنانے سے قبل جج محمد بشیر نے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان سے سوال کیا کہ آپ نے اپنا 342 کا بیان جمع کرایا ہے؟
بانیٔ پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ میں نے بیان تیار کر لیا ہے، اپنے وکلاء کے آنے پر بیان جمع کراؤں گا، مجھے تھوڑا وقت دیں، میرے وکلاء آ رہے ہیں۔جج محمد بشیر نے بانیٔ پی ٹی آئی کو وقت دینے سے انکار کر دیا۔
میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے: بانیٔ پی ٹی آئی نے جج سے کہا کہ آپ کو اتنی جلدی کیوں ہے؟ میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے، مجھے تو صرف حاضری کے لیے بلایا گیا تھا۔
کمرۂ عدالت سے چلے گئے:اس موقع پر بانیٔ پی ٹی آئی کمرۂ عدالت سے اٹھ کر اپنی بیرک میں چلے گئے۔
عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی کو دوبارہ کمرۂ عدالت میں بلانے کے لیے پیغام بھیجا۔جیل حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کمرۂ عدالت میں واپس آنے کے لیے تیار نہیں۔عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا نام پکارنے کی ہدایت کی۔عدالتی اہلکار نے اونچی آواز میں بانیٔ پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی کا نام پکارا۔جس کے بعد جج محمد بشیر نے توشہ خانہ ریفرنس کا مختصر فیصلہ سنایا۔مختصر فیصلہ سنانے کے بعد جج محمد بشیر کمرۂ عدالت سے روانہ ہو گئے۔
توشہ خانہ ریفرنس کیا ہے؟چیئرمین نیب نے بانیٔ پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر یکم اگست 2022ء کو توشہ خانہ ریفرنس پر تحقیقات کا حکم دیا








