سری نگر (دی ہندو )وادی کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو ممتاز مذہبی اسکالرز سمیت سات علماء کو پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یہ قانون بغیر کسی مقدمے کے دو سال تک احتیاطی حراست کی اجازت دیتا ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے جمعرات کو ‘TheHindu’ کو بتایا کہ PSA کے تحت اب تک دو مذہبی شخصیات اور جماعت اسلامی کے پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں مولانا عبدالرشید داؤدی، سرپرست، تحریک صوت الاولیاء؛ اور جمعیت اہل حدیث کی سرکردہ شخصیت مولانا مشتاق احمد ویری ہیں ۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق اسلامی مذہبی اسکالرز کو وادی کشمیر سے جموں کی جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔ذرائع نے کالعدم جماعت
اسلامی کے گرفتار ہونے والے دو سرکردہ علماء کی شناخت فہیم رمضان اور غازی معین الدین کے نام سے کی۔ The Hindu نے اپنے خصوصی نمائندے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا کہ اگست 2019 کو مرکز کی جانب سے ریاست کی خصوصی آئینی پوزیشن ختم کرنے کے بعد سے جموں و کشمیر میں اسلامی فکر کے مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی کرنے والے علماء پر یہ پہلا بڑا ایکشن ہے ہے۔جمعرات کی شام تک سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے حراست کی وجوہات کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ جمعیت اہلحدیث سے وابستہ عبدالمجید ڈار المدنی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم حکام فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکے۔








