روسی خبر رساں ایجنسیوں نے اتوار کو بتایا کہ روسی ریاست داغستان میں نامعلوم افراد کے حملوں میں 15 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے ہیں۔ قبل ازیں روسی شمالی قفقاز کے علاقے داغستان میں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ مسلح افراد نے اتوار کو یہودیوں کی عبادت گاہ، ایک آرتھوڈوکس چرچ اور ایک پولیس سٹیشن پر فائرنگ کی۔ دو شہروں ماخچکالا اور ڈربینٹ میں دو آرتھوڈوکس چرچز، کنیسہ اور پولیس چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب داغستان میں ایک تہوار منایا جا رہا تھا۔ حملہ آوروں نے دو گرجا گھروں، اسنیگاگ یعنی یہودیوں کی عبادت گاہ، ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا۔
ادھر بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 15 پولیس اہلکار، ایک چرچ کا پادری اور ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ حملہ آوروں میں سے چھ مارے گئے ہیں۔ایک افسر اور ایک پادری مبینہ طور پر اس وقت مارے گئے جب ڈربنٹ میں ایک عبادت گاہ اور چرچ پر گولیاں چلائی گئیں۔ یہ عبادت گاہ قفقاز میں ایک قدیم یہودی برادری کا گھر ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ نامعلوم افراد نے ایک یہودی عبادت گاہ اور ایک چرچ پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی، ایک پولیس افسر ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ حملے کے بعد عبادت گاہ میں آگ لگ گئی۔ حملہ آور گاڑی میں فرار ہو گئے۔
جنوبی روس میں مسلم اکثریتی علاقے داغستان میں کیسپین سمندر کے ساحل اور مرکزی شہر داغستان کے شمال میں تقریباً 125 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ماخچکالا میں ایک پولیس سٹیشن پر فائرنگ کے تبادلے میں ایک اور پولیس افسر مارا گیا۔ بعد میں اطلاع دی گئی کہ ماخچکالا کی گلیوں میں بندوقوں کی لڑائیاں شروع ہوگئیں۔
دریں اثنا حملہ آوروں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کالے کپڑوں میں ملبوس حملہ آور پولیس کی گاڑیوں اور ایمرجنسی سروس سکواڈ کے قافلے پر حملہ کر رہے ہیں۔یہودیوں کے قدیم شہر ڈربنٹ میں حملہ آوروں نے پہلے ایک عبادت گاہ پر فائرنگ کی اور پھر اسے آگ لگا دی۔داغستان روس کے پسماندہ علاقوں میں سے ایک ہے جو کہ مسلم اکثریتی صوبہ بھی ہے۔اکتوبر 2023 میں فلسطینی حامیوں کا ایک ہجوم یہودی مسافروں کی تلاش میں داغستان کے ہوائی اڈے میں داخل ہوا۔
یہ واقعہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والے تنازع کے بعد پیش آیا۔









