اردو
हिन्दी
اگست 27, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بھارت: فرضی انکاونٹر کے بڑھتے واقعات

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
بھارت: فرضی انکاونٹر کے بڑھتے واقعات
69
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی(ڈی ڈبلیو)

سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ جسٹس وی ایس سرپرکار کمیشن نے حیدرآباد انکاونٹر کے انکوائری رپورٹ میں کہا کہ’’متوفی مشتبہ افراد پر پولیس افسران کی جانب سے جان بوجھ کر جانے والی فائرنگ کو جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ہماری رائے میں ملزمین نے جان سے مارنے کی نیت سے گولیاں چلائیں اور انہیں یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں مشتبہ افراد ہلاک ہوجائیں گے۔‘‘

کمیشن نے اس انکاونٹر میں شامل 10پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی ہے۔

تلنگانہ پولیس نے تین نوعمر لڑکوں سمیت چار افراد کو دسمبر 2019میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ پولیس نے دعوی کیا تھا کہ یہ چاروں میڈیکل کی ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی اور پھر اسے زندہ جلادینے کے واقعے میں ملوث تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جب وہ ان چاروں افراد کو جانچ کے سلسلے میں حیدرآباد میں اس مقام پر لے گئی جہاں طالبہ کو جلایا گیا تھا تو چاروں ملزمین نے پولیس پر پتھراو کیا اور پھر فرارہونے کی کوشش کی۔ پولیس کو اپنی دفاع میں فائرنگ کرنا پڑی جس میں چاروں افراد مارے گئے۔

اس واقعے پر پولیس کی زبردست تعریف کی گئی تھی اور ان کے ’کارنامے‘کو سراہا گیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کی مقرر کردہ کمیشن نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے اپنے بیانات میں ہی کافی تضادات ہیں اور پولیس کے اقدام کو کسی بھی صورت میں درست نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

بھارت میں فرضی انکاونٹر کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں فرضی انکاونٹر کے واقعات میں کافی تیزی آئی ہے۔ صرف بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہی نہیں بلکہ اترپردیش میں بھی ایسے انکاونٹر کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جہاں وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے حکومت سنبھالنے کے بعد مجرموں کو "ٹھونک دینے ” (گولی ماردینے) کا اعلان کیا تھا۔ا س اعلان کی خاصی نکتہ چینی بھی ہوئی تھی۔

حق اطلاعات قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات کے مطابق بھارت میں سن 2000سے سن 2017کے درمیان فرضی انکاونٹر کے 1782کیس درج کیے گئے۔ سب سے زیادہ 794یا 44 فیصد انکاونٹر اترپردیش میں ہوئے۔تاہم ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق یوگی حکومت میں صرف ڈھائی برس کے دوران ساڑھے تین ہزار سے زائد انکاونٹر ہوئے جن میں 73مجرموں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سترہ برسوں کے دوران آندھرا پردیش میں 94، بہار میں 74، جھارکھنڈ میں 69، آسام میں 69 اور منی پور میں انکاونٹر کے 63واقعات درج ہوئے۔ دہلی میں اس دوران انکاونٹر کے 40اور جموں و کشمیر میں 22کیسز درج کیے گئے۔

کشمیر میں ہونے والے انکاونٹر پر انسانی حقوق کی ملکی اوربین الاقوامی تنظیمیں اکثر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (افسپا) نافذ ہے اس لیے بھارتی فوجی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے کے باوجود بھی اس قانون کی وجہ سے بچ جاتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹوں میں بھارت سے افسپا کو ختم کرنے کی بارہا اپیل کی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ’’افسپا ایک ایسا غلط قانون ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے۔ اس قانون کی موجودگی میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود سکیورٹی فورسیز کے خلاف کوئی مقدمہ چلانا تقریباً ناممکن ہے۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ کی ساوتھ ایشیا ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کا کہنا ہے کہ اگر سکیورٹی فورسز کوقانون کی خلاف ورزی کرنے پر قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا تو تشدد کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔

اترپردیش کے سابق اعلی پولیس افسر وی این رائے کا کہنا ہے کہ ‘فرضی انکاونٹر ایک سنگین معاملہ ہے۔ تمام انکاونٹرس میں پولیس نے ایسے لوگوں کوبھی مارا ہے جو کبھی کسی جرم میں ملوث نہیں رہے۔ آخر ایسے لوگوں کو پولیس کیسے مجرم قرار دے سکتی ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN