نئی دہلی: امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے یہاں منعقد پریس کانفرنس میں اترپردیش میں مدرسوں کی شناخت اور اس کی حیثیت کو جبرا تبدیل کرنے اور طلباء کے تعلیمی امور میں مداخلت پر بات کرتے ہوئےکہا کہ’’ دینی تعلیم حاصل کرنا، نہ صرف ہر شہری کا بنیادی حق ہے، بلکہ اس سے ایک بہتر معاشرہ بھی وجود میں آتا ہے۔ ایسے میں حکومت یا اس کے ماتحت کسی محکمے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مدارس میں مفت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو زبردستی وہاں سے نکال کرکسی سرکاری اسکول میں داخلہ لینے پر مجبور کرے۔ ملک کی دفعہ 30(1) میں مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور نظم و نسق کے بنیادی حقوق حاصل ہونے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اسی طرح ’آر ٹی ای‘ ایکٹ مدارس کو یہ حق دتا ہے کہ وہ اپنا نظام آزادانہ طور پر چلائیں اور طلباء کو فائدہ پہنچائیں۔
اسرائیلی بربریت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے انصاف پسند لوگ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور ظلم و بربریت کے خلاف مزاحمت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 38 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک کیے جا چکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔ غزہ میں اسکولوں، اسپتالوں، امدادی کیمپوں ، اقوام متحدہ کے مشنوں ، صحافیوں، امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ فلسطینیوں کی یہ تباہی ، مہذب کہی جانے والی دنیا کی نظروں کے سامنے ہورہی ہے،مگر وہ تماشائی بنے ہوئے ہیں۔البتہ وہاں کے عوام فلسطین کے حق میں احتجاج کررہے ہیں، جماعت عوام کے حوصلوں کو سراہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت، ہندوستان کے لوگوں اور حکومت سے کہنا چاہتی ہے کہ فلسطین کی حمایت کرنا محض انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی آزادی کی جدو جہد اور اس کے آئین کے بنیادی اصولوں کا بھی تقاضہ ہے کہ ہر قسم کی سامراجی ناانصافیوں کے خلاف جدو جہد اور مظلوم کی آزادی کا ساتھ دیں۔
انہوں نے براڈ کاسٹنگ سروسز ( ریگولیشن ) بل 2024اور بجٹ ہر بھی جماعت کا نقطہ نظر پیش کیا-










