اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اگلا وزیر اعظم کون؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
اگلا وزیر اعظم کون؟
133
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: افتخار گیلانی

بھارت میں عام انتخابات میں ابھی ڈھائی سال باقی ہیں۔ مگر اپوزیشن خاص طور پر کانگریس کی حالت زار دیکھ کر لگتا ہے کہ حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہی یہ معرکہ تیسری بار سر کر لے گی۔ کسانوں کی ملک گیر ایجی ٹیشن، حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج تو ہے، مگر اپوزیشن ابھی تک اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا پا رہی ہے۔ کانگریس میں سر پھٹول جاری ہے ۔

2004کے برعکس سیکولر اور لبرل فورسز کو یکجا کرنے کے بجائے پچھلے کئی انتخابات میں وہ راہل گاندھی کی قیادت میں سافٹ ہندوتوا کے ذریعے عوام کو لبھانا چاہ رہی ہے۔ اگر عوام کو ہندوتوا پر ہی اکٹھا کر نا ہے ، تو وہ دو نمبر ہندوتوا کی کیوں حمایت کریں گے؟ یہ پارٹی اس معمولی سے نکتہ کو پچھلے آٹھ سالوں سے سمجھنے سے قاصر ہے۔ حال ہی میں کانگریس کی کار گزار صدر سونیا گاندھی کی صاحبزادی پرینکا گاندھی نے اتر پردیش صوبہ کے لکھیم پوری کھیری ضلع میں بی جے پی کے مقامی لیڈر اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے بیٹے آشیش کمار مشرا کے خلاف محاذ کھولا اور گرفتاری ، اگر اسی طرح کانگریس نے اپوزیشن کا کردار پچھلے آٹھ سالوں میں ادا کیا ہوتا، تو حالت مختلف ہوتی۔ مشرا نے احتجاج کرنے والے سکھ کسانوں کے اوپر مبینہ طور پر گاڑی چڑھا کر چھ افراد کو ہلاک کیا۔ مگر ماہرین کے مطابق اس سعی کا کانگریس کو اب کوئی زیادہ فائدہ نہیں پہنچے گا اور ان کا ووٹ اتر پردیش میں 6سے7فیصد کے درمیان ہی رہے گا۔

بس کانگریس کو اپنے آپ کو دوبارہ دریافت کرنا پڑے گا اور ایک نئی اور صاف و شفاف ذہن کی لیڈرشپ ہی اس کو اب زندہ کرسکتی ہے۔ بڑا سوال اب بھارت میں یہ گردش کر رہا ہے کہ بی جے پی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کی صورت میں اگلا وزیر اعظم کون ہوگا؟ نئی دہلی میں مغربی ممالک کے سفارت خانے آج کل سیاسی تجزیہ کاروں، لیڈروں اور ہند و قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیویم سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنمائوں اور کارکنوں خاطر مدارت میں لگے رہتے ہیں، تاکہ سن گن لی جاسکے کہ کیا آرایس ایس نریندر مودی کو تیسری بار وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے دے سکتی ہے؟

ابھی حال ہی میں نئی دہلی میں امریکہ کے قائم مقام سفیر اتل کشپ ایسی ہی سن گن لینے کیلئے آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملنے پہنچے تھے۔ ابھی تک یہی لگ رہا ہے کہ چونکہ آرایس ایس مودی کے سیاسی قد اور اس کی پارٹی سے بالاتر شخصیت سے خائف ہے، اس لئے وہ ان کوتیسری بار وزیر اعظم نہیں بننے دے گی۔ ویسے تو مودی نے خود ہی سیاسی عہدہ کیلئے عمر کی حد 70سال مقرر کرکے کئی لیڈروں کو گھر پر بٹھادیا، اب 2024 کے عام انتخاب میں یہی رول ان پر بھی فٹ آئے گا۔ اگلے سال کے وسط میں بھارت میں صدارتی انتخاب بھی منعقد ہونے والاہے۔

فی الحال مودی کے جو دو جانشین منظر عام پر ہیں، وہ وزیر داخلہ امت شاہ اور اترپردیش صوبہ کے وزیرا علیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں۔ اندرون خانہ بی جے پی میں پچھلے کئی سالوں سے گجرات لابی کی برتری کی وجہ سے رن پڑا ہوا ہے۔ دونوںمودی اور امت شاہ گجرات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ا ن کی وجہ سے مرکزی حکومت میں گجرات بیوروکریسی کا پورے طور پر قبضہ جما ہوا ہے۔ مودی نے ملک کے سب سے بڑے صوبہ اتر پردیش کو رام کرنے کیلئے وارانسی سے انتخاب جیت کر اپنے آپ کو اسی صوبہ کے نمائندہ کے طور پر منوا تو لیا، مگر یہ شاید امت شاہ کیلئے یہ ممکن نہیں ہوگا۔

پچھلے کئی برسوں سے یوگی آدتیہ ناتھ نے سیاسی قد کے معاملے میں شاہ کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگلے سال فروری میں اتر پردیش کے صوبائی انتخابات ان کیلئے ایک امتحان ہوںگے۔ اگر وہ بی جے پی کو واپس حکومت میں لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو2024میں ان کا وزیر اعظم بننا تقریباً طے ہے۔

مودی کے برعکس یوگی کبھی آرایس ایس کے ممبر نہیں رہے ہیں۔2017 میں و زیر اعلیٰ بننے تک وہ بی جے پی کے بھی رکن نہیں تھے، گو کہ گورکھپور سے وہ 1998سے لگاتا ر بی جے پی کے ٹکٹ پر پارلیمانی انتخاب جیتے آئے ہیں۔ ا ن کے مرشد گھورکھپور کے گھورکھناتھ مٹھ یا مندر کے مہنت یوگی آوید ناتھ نے اتر پردیش میں اپنا نیٹ ورک ہندو یوا واہنی کے نام سے کھڑا کیا ہوا تھا۔ اس سیٹ پر آوید ناتھ ہی الیکشن لڑتے تھے، جو بابری مسجد کے خلا ف مہم کے ایک روح رواں تھے۔ مگر 1998میں انہوں نے بی جے پی کو مجبور کیا کہ ان کے بدلے اب ٹکٹ ان کے شاگرد یوگی آدتیہ ناتھ کو دیا جائے۔

مجھے یاد ہے کہ جب وہ پہلی بار پارلیمنٹ میں آئے، زعفرانی رنگ کے کپڑے پہنے وہ خاصے شرمیلے دکھائی دیتے تھے اور اکثر لالو پرساد یادہ کے طنزیہ جملوں کا نشانہ بنتے تھے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کا اصل نام اجے سنگھ بشٹ ہے ، اور وہ اتراکھنڈ صوبہ کے ایک راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد فارسٹ رینجر تھے ۔ حساب میں گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے دنیا تیاگ کر گورکھ ناتھ مٹھ میں مہنت آوید ناتھ کی شاگردی اختیار کی، جس نے ان کو چند سال بعد ہی پجاریوں کا سربراہ بنا دیا۔ یہ عہدہ کسی برہمن کو ہی دیا جاتا ہے، مگر آخر آوید ناتھ نے اس نوجوان سنیاسی میں کیا دیکھ کر اس کی پذیرائی کی، ہنوز ایک راز ہے۔

مودی نے وزیرا عظم بننے کے بعد جس طرح اپنی پارٹی کے لیڈران کو کنارے لگادیا یا ان کی وقعت کم کردی، آدتیہ ناتھ واحد شخصیت ہیں، جو اس دوران اپناسیاسی قد بڑھانے اور حلقہ اثر وسیع کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ پچھلے کئی برسوں سے مودی اور امت شاہ کی جوڑی نے کئی وزراء اعلیٰ اور مرکزی وزیروں کو چھٹی کردی ، مگر انتظامی ناکامی کے باوجود وہ یوگی کو ہاتھ نہیں لگا سکے۔

بی جے پی کے ایک لیڈر کے مطابق مودی۔شاہ جوڑی اور پارٹی کے اند ر گجرات لابی یوگی کو پسند نہیں کرتی ہے، مگر ان کے مطابق وہ اس وقت پارٹی کے اندر مقبول ترین لیڈر ہیں اور ان کے پشت پر آرایس ایس کا بھی ہاتھ ہے۔ اس لیڈر کے مطابق یوگی کی پوزیشن اس وقت وہی ہے، جو 2013میں مودی کی تھی۔ اس وقت پارٹی کی مجلس عاملہ نے معمر لیڈر ایل کے اڈوانی کو دروازہ کی راہ دکھا کر ان کی مخالفت کے باوجود مودی کو وزارت اعظمیٰ کے امیدوار کیلئے منتخب کیا، باقی کام گرائونڈ پر آرایس ایس اور بھار ت کے کارپوریٹ سیکٹر نے کیا۔

دلچسپ بات ہے کہ جہاں مودی کے علاوہ وزیروں و وزراء اعلیٰ پر تشہیری مواد پر اپنی تصویر لگانے پر پابندی عائد ہے، یوگی اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق آرایس ایس میں یہ سوچ پختہ ہو رہی ہے کہ مودی سے جتنا کام لیا جاسکتا تھا وہ لیا جا چکا ہے۔ اب وہ عالمی پذیرائی کے حصول کیلئے ہندوتوا کے ایجنڈاکو نرم کرنے کے فراق میں ہیں۔ آر ایس ایس کا خیال ہے کہ اس کے پاس یوگی کے علاوہ کوئی اور عوامی لیڈر موجود نہیں ہے۔ مزید کہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں یوگی کا اپنا ہندو واہنی کا کیڈر قریہ قریہ میں پھیلا ہوا ہے۔

2017کے اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے بعد تو مودی ، جموں و کشمیر کے موجودہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے تھے۔ وہ حلف برداری سے قبل ایک ہیلی کاپٹر چارٹر کرکے اترا کھنڈ کے پہاڑوں میں اپنے آبائی مندر میں آشیر واد لینے بھی چلے گئے تھے۔ مگر واپسی پر ان کو معلوم ہوا کہ آرایس ایس نے قرعہ یوگی کے نام نکالا ہے۔

لگتا ہے کہ وزارت اعظمیٰ کی کرسی سنبھالنے سے قبل ان کو انتظامی امور کی تربیت کیلئے اترپردیش کے وزارت اعلیٰ کا منصب سونپا گیا۔ یوگی بھی اپنی سخت گیر ہندو انتہا پسند شبیہ کو کم کرنے نہیں دینا چاہتے ہیں۔ وہ بالکل مودی کے نقش قدم پر چل کر کارپوریٹ سیکٹر کو مراعات دے کر ان کی خوشنودی حاصل کرکے اور اپنی تقریروں میں اقلیتی طبقوں کو نشانہ بناکر اور قوم پرستی کا جنون پیدا کرکے ووٹ بٹورنے کا کام کر رہے ہیں۔ اگر کسانوں کی ایجی ٹیشن سکھ علاقے لکھیم پور کھیری ضلع سے باہر پھیل جاتی ہے، اور اپوزیشن اس کا فائدہ اٹھا پاتی ہے، تو بس وہی ان کے اس مارچ کو روک سکتی ہے۔

فی الحال وہ اور ان کے حواری اس ایجی ٹیشن کو سکھ بنام ہندو پیش کرکے اس کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر ہندو ووٹوں کو لام بند کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک طرح سے 2024 کے عام انتخابات کی تیاری ہے۔اور یہ بھی اب ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے، کہ بی جے پی مسلمانوں کی حمایت کے بغیر بھی اقتدر میں آسکتی ہے اور وہ اب یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ سکھوں اور جاٹ کسانوں کے بغیر بھی میدان مار سکتی ہے اور ہندو فرقہ پرستی کو بھنانے میں اب انکو کوئی عار نہیں ہے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN