الہ آباد :(ایجنسی)
الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ہندوستان کی بنیاد بہت مضبوط ہے اور کھوکھلے نعروں سے ملک کے اتحاد کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ ریمارک تین کشمیری طلبہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کیا۔ ان طلباء پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے پاک بھارت میچ میں بھارت کے خلاف نعرے لگائے تھے۔ ان تینوں طالب علموں پر بغاوت کی دفعات لگائی گئی تھیں۔
ان کے نام ارشد یوسف، عنایت الطاف شیخ اور شوکت احمد گنئی ہیں۔ تینوں گزشتہ 5 ماہ سے آگرہ ضلع جیل میں بند تھے۔
تینوں آگرہ انجینئرنگ کالج کے طالب علم ہیں اور وزیر اعظم کی خصوصی اسکالرشپ اسکیم کے تحت زیر تعلیم ہیں۔
کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جج اجے بھنوٹ نے کہا کہ ہندوستان کا اتحاد بانس کی لاٹھی سے نہیں بنتا جو کھوکھلے نعروں کے سامنے منہدم ہو جائے۔ ہمارے ملک کی بنیاد مستقل ہے اور آئینی اقدار ہی ایک پائیدار ہندوستان بناتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ملک کا ہر شہری اس کا محافظ ہے اور حکومت ہندوستان کے اتحاد اور آئینی اقدار کی نگہبان ہے۔
عدالت نے کہا کہ لوگ علم کی تلاش میں ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور یہ صحیح معنوں میں ہندوستان کے تنوع کا جشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول بنائیں کہ دانشور ہندوستان کی آئینی اقدار کو سمجھ سکیں۔
عدالت نے کہا کہ نوجوان دانشوروں کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسی اقدار کی پیروی کریں
عدالت نے اپنے فیصلے میں معروف شاعر علامہ اقبال کے گیت سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا کی تین سطروں کا بھی ذکر کیا ہے۔
اس معاملے میں آگرہ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان طلباء کو کوئی قانونی امداد نہیں دی جائے گی۔ ان طلباء پر آگرہ کی ضلع عدالت میں بھی حملہ کیا گیا تھا۔ ان طلباء پر آئی پی سی کی دفعہ 124A سمیت کئی دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
طلباء کو ضمانت دینے کے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر نے کہا کہ ان تینوں طلباء کو کافی مشکلات سے گزرنا پڑا لیکن ضمانت کے حکم سے انصاف پر عام آدمی کا اعتماد بڑھا ہے۔










