گوہاٹی(پریس ریلیز)
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قوی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کی قیادت میں پارٹی کے ایک دو رکنی وفد نے کل آسام کے دارانگ ضلع کے دھالپور گاؤں کا دورہ کیا جہان ۲۲ ستمبر کو مقامی بنگالی باشندوں سے جبرا زمیں خالی کرانے کے لئے آسام حکومت کے ایماء پر پولیس نے انھیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ معاملہ اس وقت اور زیادہ سنگین ہوگیا جب ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں ایک ہلاک شخص معین الحق کے مردہ جسم پر پولس پارٹی کے ساتھ جانے والے فوٹو گرافر نے کود پھاند کی۔
پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر الیاس اور قومی سیکریٹری رزاق پالیری نے معین الحق کی بیوہ، ان کے بچوں اور والد سے ملاقات کی، انھیں تعزیت دی اور دلاسہ دیا۔
ڈاکٹر الیاس نے پریس کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اشارہ پر پولس کے ذریعہ غیر انسانی، ظالمانہ اور جبری انخلاء، جس میں پولیس نے نہتے بنگالی مسلمانوں پر بغیر کسی وارننگ کے اندھادھند گولیاں چلادیں کو سوائے ریاستی دہشت گردی کے اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ویلفیئر پارٹی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس کی ایک جمہوری و آئینی ملک میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
آسام حکومت کی جانب سے اس واقعہ کی عدالتی جانچ کا اعلان دراصل لوگوں کے غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے، حقوق انسانی کے افراد اور اداروں کی تشویش کو کم کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک حکمت عملی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
دھولپور گاؤن کے جن لوگوں کا ۲۰ ستمبر کو انخلاء کیا گیا اور ۲۲ ستمبر کو مزید جن لوگوں کا انخلا کیا جارہا تھا ان میں سے کوئی بھی نہ تو غیر ملکی درانداز ہے اور نہ ہی بنگلہ دیشی بلکہ یہ لوگ اس مقام پر ۱۹۶۸ سے آباد تھے اور یہان آباد ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ برہم پترا ندی کے سیلاب کی وجہ سے ان کی زمینیں اور گھر بہہ گئے تھے، مجبوراً انھیں اس مقام پر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔حالانکہ ریاستی حکومت کو اسی وقت ان کی باز آباد کاری کرنی چاہیے تھی۔ستم بالائے ستم اب یہاں سے بھی جبرََا بھگایا جارہا ہے جو کہ دستور ہند کے بنیادی حق(آرٹیکل۲۱) کے صحیح خلاف ہے۔
کووڈ وبا کے اس دور میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انخلاء اور انہدام کا یہ آرڈر، چاہے کسی بھی اتھارٹی کی جانب سے دیا گیا ہو اسے ؤخر اور ملتوی کیا جاتا لیکن حکومت آسام اس غیر انسانی اور غیر اخلاقی اس عمل کی مرتکب ہوئی۔
ڈاکٹر الیاس نے حزب اختلاف کی سیاسی پارٹیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا یہ پارٹیاں انتخابات کے وقت ان کے ووٹوں کی خود کو حقدار سمجھتی ہیں لیکن مصیبت کی اس گھڑی میں انہوں نے مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کیا۔اس طرح بالواسطہ آسام حکومت کے اس ظالمانہ اقدام کی درپردہ تائید کی۔قومی صدر نے آگے کہا کہ بی جے پی کی ریاستی سرکار ان مظلوم مسلمانوں کو غیر ملکی درانداز قرار دے رہی ہے حالانکہ ان کے پاس نہ صرف شناختی کارڈ بلکہ دیگر تمام دستاویزات موجود ہیں اور وہ برسوں سے اس مقام پر آباد تھے۔
انہوں نے کہا کہ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اس ظالمانہ اور جابرانہ اقدام کے لئے ریاست کے وزیر اعلی کو براہ راست ذمہ دار سمجھتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فی الفور اپنے منصب سے استعفی دیں مزید مطالبہ کرتی کہ اس جبری انخلاء کو فی الفور بند کیا جائے، ہلاک شدگان کو۵۰،۵۰ اور زخمیوں کو دس لاکھ روپیوں کا معاوضہ دیا جائے اور اس ہلاکت اور ظالمانہ کاروائی کے لئے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کاروائی کرکے سزا دلوائی جائے نیز جن لوگوںکوہٹایا گیا ہے ان کی فی الفور باز آباد کا ری کی جائے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا حکومت ھند سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دستور کی دفعہ۱۹ اور ۲۱ کے تحت (ہر شخص کو زیب اور سر چھپانے کے لئے چھت) ہر گاؤن اور شہرکے بے زمیں اور بے گھر افراد کو زمین اور گھر مہیا کرائے۔










