اردو
हिन्दी
جولائی 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نہرو کے ساتھ ناانصافی اور فرقہ وارانہ نالائقی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
نہرو کے ساتھ ناانصافی اور فرقہ وارانہ نالائقی
81
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مولانا عبد الحمید نعمانی

گزشتہ کچھ عرصے سے جہاں ملک کو ایک مخصوص سمت میں لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ وہیں ،بہتر شبیہ والے بڑے ،چھوٹے تعلیمی اداروں کو بھی فرقہ وارانہ راہ پر لے جانے کی بھی مسلسل مہم چلائی جا رہی ہے ، اعلی تعلیم مراکز میں جواہر لعل نہرو یو نی ورسٹی بھی ہے ، ملک کے فرقہ پرست عناصر کو ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام کے ساتھ ان کے فکرو عمل سے بڑی نفرت اور چڑ سی ہے ۔ اس کی سطح اس قدر پست ہو گئی ہے کہ آزادی کے امرت مہوتسو کے اشتہار سے بھی پنڈت نہرو کی تصویر غائب ہے ۔

ظاہر ہے کہ یہ عمل ، تنگ نظری پر مبنی ہے ۔ ان کے مقابلے میں ،ساورکر وغیرہ کی تصویر بہت نمایاں طور سے لگائی گئی ہے۔ پنڈت نہرو کی آزادی کی تحریک میں دیگر حضرات سے خدمات اور کارنامے کم نہیں ہیں ، ویسے بھی جس طرح سبھاش چندر بوس ، بھگت سنگھ ، ڈاکٹر امبیڈکر وغیرہم کا حوالہ بالکل غلط طریقے سے پس منظر سے کاٹ کر دیا جارہا ہے ۔ ان کے فکرو عمل سے ہندو تو اور سنگھ کی فرقہ پرستانہ تحریک سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔

تحریک آزادی کی تقریب کے تناظر میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا نام محض دلتوں کو رجھانے اور ووٹ کی سیاست کے زیر اثر دیا گیا ہے ۔ ورنہ پنڈت نہرو اور مولانا آزادؒ کی تحریک آزادی میں حصے داری اور شرکت کے حوالے سے کوئی زیادہ مطلب نہیں ہے۔11-1910 ء کے بعد ساورکر کا تحریک آزادی کے متعلق رول پوری طرح بدل گیا تھا اور گزرتے دنوں کے ساتھ مکردہ اور معافی سے داغدار ہو کر جس شکل میں سامنے آیا اس سے ہر کوئی واقف ہے ۔

پنڈت نہرو کے کچھ افکارو اعمال سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن کردارکشی اور وطنی و سماجی منظر نامے سے نہرو کے کردار کو باہر کر دینے کی مہم سرا سر بزدلی، تنگ نظر ی اور بد دیانتی ہے ۔ اس کے کچھ نمونے ملک کی معروف یونیورسٹی جواہر لعل نہرو کی شبیہ بگاڑنے کے سلسلے میں گزشتہ کچھ برسوں سے سامنے آرہے ہیں ۔ گرچہ پہلے بھی جے ین یو، فرقہ پرست ہندوتووادی عناصر کے نشانے پر رہی ہے تاہم جس طرح گزشتہ کچھ برسوں سے اس کی شبیہ بگاڑنے اور مکردہ شکل میں پیش کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے ۔ وہ تشویشناک ہونے کے ساتھ بھارت کی بہتر تکثیری روایات کے لیے تباہ کن بھی ہے ۔

یونیورسٹی کو اس کی تاریخ و روایت اور مقاصد کے بر خلا ف سمت میں لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس سے جس طرح نظر انداز کردہ مختلف غریب محنت کش طبقات کے افراد نے بھی فیض و فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک ،بیرون ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی نمائندگی درج کرائی ہے ۔ اس نے تفریق پسند ،جات پات کے حامل تفوق نواز عناصر کو بے چینی و اذیت میں مبتلا کر دیا ہے ۔ وہ گزشتہ عرصہ سے منظم طریقے سے جے این یو کو اپنے ڈھب پر لانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ۔ یہ اقتدار کے زیر سایہ ذرائع ابلاغ اوراقتدار ی طبقے کے توسط سے اعلی تعلیمی اداروں پر حملے کا حصہ ہے ۔ دانشوری ،انسانی اقدار اور آزادی کے حوالے سے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا پوری دنیا میں ایک بڑا نام ہے اس کی کئی طرح کی خصوصیات بھی ہیں۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، تعلیم اور جدو جہد کی اچھی مثال ہے ۔ یہ تفوق پسند طبقاتی نظام کے حامی عناصر کے لیے کبھی بھی قابل قبول نہیں رہاہے ۔ ان کا من پسند طرز حیات کے متعلق اقتداری غلبے اور سرکار کی تشکیل کے ساتھ ہی امید بر آتی معلوم ہو تی ہے،9فروری 2016ء کے حملے اور اس سے پہلے اور بعد سے اب تک کے نظریاتی سطح پر یو نیورسٹی کے کردار کو بدلنے کی سعی نا مشکور کی جارہی ہے اور سارا کچھ راشٹر واد اور ہندستانی سنسکرتی کے نام پر کیا جا رہا ہے ۔ جب کہ بذات خود جے این یو کا ایک تہذیبی و سماجی اور تعلیمی رویہ ،روایت اور وراثت ہے ۔ اس کے قیام کے پس پشت ایک نظر یہ و فکر کار فرماتھا ۔ جواہر لعل نہرو کے وژن کے پیش نظر اندرا گاندھی سرکار نے سائنسی سوچ اور ترقی پسند ماحول سازی کے مقصد کے تحت جون 1969ء میں یو نیورسٹی کا قیام عمل میں آیا تھا،ملک میں یو نیورسٹیاں تو بہت سی ہیں ،لیکن نہرو کے خوابوں کی یونیورسٹی کے قیام کے کچھ خاص مقاصد و اغراض تھے ۔ ان کے گزرتے دنوں کے ساتھ اثرات و نتائج بھی مرتب و برآمد ہوئے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اشتراکی دانشورں اور اہل علم کا جے این یو سے خاص طورسے وابستگی رہی ہے اس کے پیش نظر ان کا اثر بھی رہا ہے ۔

تاہم وہ جمہور عوام ،جو ہر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں کے تعلیمی ادارے کے طور پر زیادہ متعارف و منسوب رہی ہے ۔ یہ ماحول بنانے میں اس کے اساتذہ ، طلبہ اور مختلف شعبے کے عملے کا تعاون و دخل رہا ہے ۔ وہاں کی طلبہ تنظیم کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ جے این یو ملک کی واحد یو نیورسٹی ہے جس کی طلبہ تنظیم کا باقاعدہ دستور ہے ۔ اس میں بھی کو ئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ یو نیورسٹی نے نہرو کے خوابوں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر مبنی اقدار و روایات اور مسلک انسانیت کو آگے بڑھانے اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ جب کہ ملک میں اقتدار اور اس سے باہر ایک طاقتور دائیں بازو طبقے کو نہرو کی شخصیت اور نام وکام سے شدید معاندت و غیریت رہی ہے ۔ وہ ہر قیمت پر نہرو اور ان کے نام پر قائم یونیورسٹی کے کردار اور تصور و تصویر کومسخ اور بدل دینے کے لیے کوشاں ہے اور بدلتے سیاسی و سماجی حالات میں متعلقہ تفوق پسند عناصر کو اپنے ارادے کی تکمیل کی راہ ہموار ہوتی نظر آرہی ہے بلکہ کہیے کہ موقع مل گیا ہے اختلاف رکھنے والوں کی شبیہ کو مکردہ شکل میں پیش کر نا اور فرقہ وارانہ جہات کو نمایاں کر کے اکثریت کو گمراہ کر کے خود کو امن و انسانیت پسند کے طور پر سامنے لانا بھی ہے ۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ سیاسی فوائد کے حصول کے لیے بھارت میں فرقہ پرستی بڑی معاون و موثر ثابت ہوئی ہے دیگر کے برے دن میں اپنے اچھے دنوں کی تلاش بھارت کے بنیا وادی عناصر اور سماج کے لیے بڑی مفید و موافق ہے ، دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر مختلف قسم کی دہشت پسند یوں کا کھیل بڑا نفع بخش ثابت ہوا ہے ۔ جب ہر جگہ یہ کھیل چل رہا ہے تو تعلیمی اداروں کو نفع بخش کاروبار سے محروم رکھنے کو مزعومہ راشٹر واد کے منافی سمجھا جا رہا ہے ۔ اس کے مد نظر جے این یو میں اطلاعات کے مطابق کچھ ایسے عنوانات پر تحقیقی کام کے نام سے پروجیکٹ کو منظوری دی گی ہے ۔ جو ہندوتو کے تفوق اور اس کے برعکس نظریات اور طرز حیات، سوالات کی زد میں آجاتے ہیں ، پروجیکٹ کے تحقیقی کام کے عنوان سے ہی ذہن و جہت کا پتا چل جاتا ہے کہ منزل کیا ہے ؟سلفی جہادی :برصغیر ہند میں خطرات اور ہندستان کی پالیسی سازی میں در پیش حال اور مستقبل کے چیلنجزکے عنوان ہی سے راستہ اور منزل کاپورا نقشہ سامنے آجاتا ہے ملک اور عالمی سطح پر بڑھتے اسلامو فوبیا اور نئے مسلم زاویوں کی تلاش میں، فرقہ وارانہ سوچ پوری طرح نمایاں نظر آتی ہے ، جہاد کے کچھ مخصوص مفاہیم و شرائط ،وقت ، مقام اور فرد کے حوالے سے فساد کے خاتمے اور ایک تعمیری عمل ہے ، مگر فسادی عناصر اصل جہادی مقاصد کو نظر انداز کر کے اسے دہشت گردی سے نتھی کر کے جہادی دہشت گردی کے عنوان سے متعارف کرا رہے ہیں اور حد یہ ہے کہ جہادی دہشت گردی کو مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل قرار دیا جا رہا ہے ۔

یہ خوش آئند اور امید کی بات ہے کہ فرقہ وارانہ اتحاد میں یقین رکھنے والے عوام اور دانشور فرقہ پرستانہ پروجیکٹ کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسے نفر ت پھیلانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی جیسی تعلیمی مرکز میں اس طرح کے فرقہ وارانہ کو رس پڑھانے کی اجازت کے خلاف نظر آرہے ہیں ۔ کسی ایک مذہب اور کمیونٹی کے حوالے سے دہشت گردانہ سرگرمیوں پر تحقیق کرانے کے سماج پر یقینی طور پر مضر اثرات ونتائج ہوں گے اور وہ بھی پنڈت نہرو کے نام پر اس طرح کی نالائقی اور ناانصافی کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔

noumani.aum@gmail.com

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN