بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے اچانک مستعفی ہو کر بھارت جانے سے ایک رات قبل فوج کے اعلیٰ افسران کا ایک آن لائن اجلاس ہوا تھا جس کی صدارت آرمی چیف جنرل وقار الزمان کر رہے تھے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوجی اہلکار کرفیو کے نفاذ کے لیے عام شہریوں پر کسی صورت گولی نہیں چلائیں گے۔
اتوار کی شب ہونے والے اجلاس کے اختتام کے فوراً بعد جنرل وقار الزمان وزیرِ اعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ روانہ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق آرمی چیف نے شیخ حسینہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور آگاہ کیا کہ فوج کے اہلکار ان کے ملک گیر لاک ڈاؤن یا کرفیو کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے۔
بنگلہ دیش فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل سمیع الدولہ چوہدری نے اتوار کو ہونے والے اعلیٰ فوجی افسران کے اجلاس کی تصدیق کی ہے۔ البتہ انہوں نے اسے ہنگامی حالات میں فوجی قیادت کا کیا جانے والا روایتی اجلاس قرار دیا۔
’رائٹرز‘ کے مطابق فوج کے ترجمان کے سامنے اس اجلاس کی مزید تفصیلات کے متعلق جب سوالات رکھے گئے تو انہوں نے ان کا جواب نہیں دیا۔
‘رائٹرز’ کو ایک بھارتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شیخ حسینہ کو جنرل وقار الزمان سے ملاقات کے بعد واضح پیغام مل چکا تھا کہ اب وہ فوج کی حمایت کھو چکی ہیں۔
گزشتہ چند دن میں بنگلہ دیش میں پیش آنے والے واقعات پر ’رائٹرز‘ نے کئی ایسے لوگوں سے بات چیت کی ہے جو معاملات سے باخبر تھے جن میں فوج کے چار اعلیٰ افسران اور دو دیگر عہدیدار شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کی ہیں۔
شیخ حسینہ کے استعفے سے قبل فوج کے اعلیٰ افسران کے اس اجلاس اور پھر وزیرِ اعظم کو فوج کی جانب سے عدم تعاون کا پیغام ملنے کی تفصیلات پہلے سامنے نہیں آئی تھیں۔
ان تفصیلات کے سامنے آنے سے کسی حد تک یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کا 15 برس طویل اقتدار اچانک ختم ہوا اور وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر افراتفری میں بنگلہ دیش سے بھارت روانہ ہوئیں۔
سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ کی تحریک پرتشدد مظاہروں کے بعد وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے استعفے کے مطالبے تک محدود ہو گئی تھی۔
جولائی میں شروع ہونے والی اس تحریک کے دوران اتوار سب سے خون ریز دن ثابت ہوا تھا۔ اس روز جھڑپوں، پولیس کے تشدد اور ہنگامہ آرائی میں لگ بھگ 91 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
درجنوں لوگوں کی ہلاکت کے بعد وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے ملک گیر کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کیا تھا جس کا اعلان فوج کی جانب سے کیا گیا تھا۔
فوج کے تین سابق اعلیٰ افسران کے مطابق بنگلہ دیش میں مظاہروں کی شدت اور اس احتجاج کو ختم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کے سبب لگ بھگ 300 اموات نے فوج کے لیے شیخ حسینہ کی حمایت برقرار رکھنا مشکل بنا دیا تھا۔
بنگلہ دیش کی فوج کے سابق بریگیڈیئر جنرل سخاوت حسین نے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں بتایا کہ فوج کے اہلکاروں میں بھی شدید بے چینی کا عنصر موجود تھا۔
ان کے بقول اسی بے چینی کے سبب ممکنہ طور پر فوج کے سربراہ پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکار سڑکوں پر ڈیوٹی انجام دینے کے لیے موجود تھے اور ان کو سب نظر آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔
آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے شیخ حسینہ کے پیر کو استعفیٰ دینے سے دو دن قبل ہفتے کو ہی اشارہ دے دیا تھا کہ وزیرِ اعظم کے لیے فوج کی حمایت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ جنرل وقار سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے دور کے رشتے دار بھی ہیں۔ وہ بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف جنرل مستفیض الرحمٰن کے داماد ہیں جو بنگلہ دیش کے بانی اور شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمٰن کے کزن تھے۔ جنرل مستفیض نے 1997 سے 2000 کے درمیان بنگلہ دیش کی فوج کی اس وقت قیادت کی تھی جب شیخ حسینہ پہلی مرتبہ وزیرِ اعظم بنی تھیں۔
جنرل وقار الزمان نے ہفتے کو فوج کے جونیئر افسران سے خطاب کیا تھا۔ اس اجلاس میں بہت بڑی تعداد میں فوجی وردیوں میں ملبوس افسران شریک تھے۔ آرمی چیف لکڑی کی ایک آرائشی کرسی پر بیٹھے افسران سے مخاطب تھے۔
اس اجلاس کی کچھ تفصیلات بعد ازاں فوج کے ترجمان نے جاری بھی کی تھیں۔
فوجی ترجمان نے بتایا تھا کہ آرمی چیف نے افسران سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام لوگوں کی جان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی تھی۔
یہ پہلا موقع تھا جب فوج کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ وہ طاقت کے ذریعے احتجاج کو دبانے میں معاون نہیں بنے گی۔ اس کے بعد سے شیخ حسینہ کے اقتدار کو خطرات لاحق ہو چکے تھے۔










