ایران نے بدھ کے روز امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی منصوبہ بندی میں تہران کے ملوث ہونے کے رپورٹوں کو سختی سے رد کرتے ہوئے ان الزامات کو ”بدنیتی پر مبنی‘‘ قرار دیا۔
ایران کی جانب سے یہ رد عمل امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں ذرائع کی شناخت ظاہر کیے بغیر کہا گیا تھا کہ امریکی حکام کو ٹرمپ کے قتل کی ایرانی منصوبہ بندی کی اطلاعات ملی ہیں۔
اس حوالے سے امریکی خبر رساں ادارے سی این این کی رپورٹ میں منگل کو کہا گیا تھا کہ امریکی حکام کو یہ معلومات ایک شخص کے ذریعے ہفتوں پہلے دی گئی تھیں۔ تاہم سی این این کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اس مبینہ منصوبہ بندی کا پچھلے ہفتے ٹرمپ کی ایک الیکشن ریلی کے دوران ہونے والے فائرنگ کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بدھ کے روز اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہونے کہا کہ یہ الزامات ”غیر مصدقہ اور بدنیتی پر مبنی‘‘ ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے لیے ٹرمپ ایک "مجرم” ہیں جنہوں نے 2020ء میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کا حکم دیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بنا پر ٹرمپ کو ”سزا ملنی چاہیے، لیکن اس کے لیے ہم نے قانونی طریقہ کار کا انتخاب کیا ہے۔‘
علاوہ ازیں، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران ”ٹرمپ پر حالیہ حملے میں ملوث ہونے کی (رپورٹس کی) سختی سے تردید کرتا ہے‘‘۔انہوں نے بھی قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ٹرمپ کے خلاف قانونی کارروائی کیے جانے کے ایرانی موقف کو دوہرایا۔









