اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مظلوموں کی فریاد کوئی سُن رہا ہے؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
مظلوموں کی فریاد کوئی سُن رہا ہے؟
285
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ابھے کمار

دو سال گزر گئے، مگر حالات نہیں بدلے۔ کچھ دن قبل جے این یو کے سابرمتی ڈھا بےپر ، جنوری کی اسی سرد شام میں، شرجیل امام اور دیگر "سیاسی قیدیو ں” کی رہائی کے لیے ایک بار پھر جلوس نکالا گیا ۔ دو سال پہلے بھی اسی مقام پر اسی طرح کا جلوس منعقد کیا گیا تھا۔ ہر بار طلبہ اور سماجی کارکنان نے فریاد کی کہ شرجیل امام، عمر خالد، میران حیدر اور دیگر مسلم اور غیر مسلم سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے،کیونکہ پولیس نے انہیں دانستہ طور پر پھنسایا ہے ۔ وہیں دوسری طرف جو اصل قصوروار ہیں، اُن کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا گیا ہے، بلکہ انہیں ملک اور اکثریت ہندو طبقہ کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ افوسوس کہ بات ہے کی فریادی کی باتوں کو ابھی تک اَن سُنا کر دیا گیا ہے۔انصاف کی فریاد کرنے والے یہ نہیں کہتے کہ گناہ گاروں اور مجرم وں کو بری کر دیا جائے۔ وہ تو یہ بھی مانگ نہیں کرتے کہ مسلمان اور دیگر محروم طبقات کے لیے کوئی خاص رعا یت دی جائے۔ ان کی تو بس یہی اِلتجا ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہو اور سب کو قانون کے سامنے برابر سمجھا جائے۔ قانون کا راج ہو، نہ کہ ناگپور سے کوئی فرمان آئے اور اسےہی قانون سمجھ لیا جائے۔ ملک کا محکوم طبقات یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فیصلہ لیتے وقت یہ نہ دیکھا جائے کہ کون اکثریت ہے اور کون اقلیت ہے، بلکہ بڑا، چھوٹا، امیر، غریب، ذات ، برادری، دھرم ، مذہب، جنس اور نسل کے تعصب سے پاک ہو کر فیصلہ دیا جائے۔ اگر ایسا ہو جائےگا تو کوئی بھی بے گناہ جیل میں اپنی زندگی برباد کرنے کے لئے مجبور نہیں ہوگا ۔

محکوم طبقات کے خلاف ہو رہے ظلم و ستم کا رشتہ ان کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی پسمادگی سے بھی ہے ۔ سرکار ی نوکری، کالج اور یونیورسٹی میں مسلمان اور دیگر کمزور طبقات کی نمائندگی اُن کی آبادی کے تناسب سے بہت ہی کم ہے، وہیں جیل اور پولیس تھانوں میں وہ اپنی آبادی کے نتاسب سے بہت ہی زیادہ قید ہیں۔ مسلمان اس ملک میں ۱۴ فی صد کے آس پاس ہیں، جنکہ اُن کی نمائندگی اعلیٰ تعلیم میں اُن کی آبادی سے تین سے چار مرتبہ کم ہے. آخر کیوں آج سرکاری نوکری میں مسلمان چراغ لے کر بھی تلاش کرنے سے نہیں نظر آتے؟ کیا مسلمانوں میں میریٹ کی کمی ہے یا پھر مسلم امیدوار صلاحیت نہیں رکھتا؟ آخر بھارت کے مسلم نوجوان نوکری کے لیے کہاں جائیں؟ پڑھ لکھ کر جب ملازمت نہیں ملتی اور جب کوئی امیدوار کو انٹرویو میں اس لیے باہر کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اعلیٰ ذات میں پیدا نہیں ہوا تھا، تو اس سے بڑھ کر اور کیا نا انصافی ہو سکتی ہے؟ ایک تو مسلم امیدوار غریبی، فرقہ وارانہ تشدد اور تعصّب کی وجہ سے کالج کا گیٹ نہیں دیکھ پا تا ہے، اور جس نے کسی طرح گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی، اُس کو بھی ہر روز دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلی کا بھی حال وہی ہے، وہاں بھی کچھ ہاں میں ہاں ملانے والے لوگوں کو ٹکٹ مل جاتا ہے، سچ بولنے والوں کو کوڑا دان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ آزادی سے پہلے مسلمانوں کو ریزرویشن ملتا تھا، اُن کی نمائندگی آج سے کہیں بہتر تھی۔ ملک کی یہ بد قسمتی تھی کہ یہ دو حصّوں میں بٹ گیا اور بھارت کے متوسط طبقہ کےمسلمانوں کی ایک بڑی آبادی پاکستان چلی گئی اور آزاد بھارت کی سرکاری نے کبھی بھی مسلمانوں کو سچے من سے گلے نہیں لگایا۔ جہاں سرکاری اداروں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتا گیا، وہیں فرقہ وارانہ تشدد میں ان کی جانیں لی گئیں اور جو زندہ رہ گئیں ان کو ہر روز مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں نے اقلیت کوبرابر کا شہری نہیں سمجھا۔ بھگوا لیڈروں نے اپنی کتاب میں اس بات کو درج کیا ہے کہ مسلمان، عیسائی اور کمیونسٹ بھارت کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں اور وہ اندر چھُپےہوئے دشمن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیش کا محکوم طبقات سرکاری نوکری اور اعلیٰ تعلیم میں اپنی آبادی سے کافی کم ہے اور جو اہم پوسٹ ہیں ان سے محروم طبقات کو دانستہ طور پر دور رکھا گیا ہے۔ دوسری طرف جیل میں وہ اپنی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ کیا یہ صرف اتفاق ہے؟ بالکل نہیں۔ آج اسی پسمانددگی اور سرکاری تعصب کی وجہ سے مسلم نوجوانوں کو انصاف نہیں مل پا رہا ہے ۔

اقلیوں کے خلاف فرقہ وارانہ سوچ بھارت کی جمہوریت کے لیے خطرہ ہے ۔ یہ دیش کو اندر سے کمزور کر رہا ہے۔ عدالت میں بھی مظلوم کے حق میں انصاف نہیں اکثر نہیں کرتی کیونکہ مظلوم جب سماج میں کمزور ہے تو وہ عدالت میں برابر کیسے ہو سکتا ہے؟ جو غریب ہے، جو کمزور ہے، جو دلت، پسماندہ، آدی واسی، مسلم، عیسائی، خواتین ہیں، وہ سماج کے وسائل سے محروم ہیں، اُن کے لوگ نہ عدالت میں بیٹھے ہیں اور نہ ان کا کوئی سیاسی نیٹ ورک ہے اور نہ ہی ان کے پاس پیسہ ہیں کہ وہ بڑے سے بڑے وکیل کو اپنا کیس لڑنے کے لئے راضی کر لیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کوطویل مدت تک جیل میں قیدرہنا پڑتا ہے۔ سچ پوچھیے تو شرجیل، عمر، میران اور دیگر مسلم اور غیر مسلم سماجی کارکنان کے خلاف کوئی مضبوط کیس نہیں ہے۔ اُن کا صرف اتنا ہی قصور تھا کہ اُنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ یعنی سی اے اے کی مخالفت کی اور مذہب پر مبنی اس قانون کوواپس لینے کے لیے احتیاج میں حصہ لیا۔ کیاجمہوری ملک کے کمزور طبقوں کو اپنے اور ملک کے سیکولر آئین کے خلاف بن رہی پالیسی کی مخالفت کرنے کا بھی حق نہیں ہے؟

سی اے اے کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ، سرکار کے ترجمان بن چکے ٹی وی چینل نے شرجیل کے خلاف بہت زیادہ غلط فہمی پھیلائی تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ شرجیل نے کوئی غیر قانونی کام انجام دیا ہے، بلکہ بھگوا طاقتیں اور سیکولر گروہ میں بیٹھے کمیونل عناصر کو یہ ڈر محسوس ہونے لگا کہ شرجیل جیسے پڑھے لکھے، بے باک اور تحریک سے جڑے ہوئے مسلمان ان کے لیے مستقبل میں ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ اس لیے شرجیل کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اسے ملک کے لیے خطرہ بتایا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ شرجیل ے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ سی اے اے کو واپس لینے کے لیے اور بے حس سرکار پر دباؤ ڈالنے کے لیے چکا جام ضروری ہے۔ کیا چکا جام کا کال دینا ملک سے غداری ہے؟ کیا چکا جام کی اپیل کرنے والا شرجیل ملک کا پہلا لیڈر تھا؟ اگر نہیں ، تو اسے کیوں جیل میں بند کیا گیا ہے؟ اگر چکا جام کا کال دینا یا پھر پُر امن طریقے سے شاہین باغ کے دھرنے پر بیٹھنا ملک سے دہشت گردی ہے، تو نفرت انگیز تقریر دے کر دہلی دنگوں کو بھڑکانے والوں اور مظلوم کے خلاف حملہ کرنے والے بھگوا شر پسندوں کو کیا کہا جائےگا اور ان کے لیے کیا سزا ہونی چاہیے؟

ملک کی بد قسمتی دیکھیے کہ آج لوگوں کو اُن کا دھرم، مذہب اور ذات برادری دیکھ کر سزا اور انعام دیے جارہے ہیں ملک کے سچے محب وطن سے مظلوم طبقات کی یہ فریاد ہے کہ وہ سامنے آئے اور ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کریں۔ یہ ملک ساجھی وراثت اور ساجھی شہادت کا ہے۔ اس ملک کو جتنا کمزور انگریزی حکومت نے نہیں کیا، شاید اس سے بھی زیادہ دھرم اور مذہب کی لڑائی نے کیا ہے۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے۔ بے گناہ قیدیوں کو انصاف ملنا چاہیے۔ کیا اس ملک میں مظلوموں کی فریاد کوئی سُن رہا ہے؟

(مضمون نگار جے این یو سے تاریخ میں پی ایچ ڈی ہیں۔)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN