اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

حجاب سے بَیر ہے ،یا مسلمانوں سے؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
حجاب سے بَیر ہے ،یا مسلمانوں سے؟
131
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ابھے کمار

اُتر پردیش اور پنجاب سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے اہم اسمبلی انتخابات سے عین قبل، بھگوا طاقتوں نے ایک بار بھرمسلم مخالف کارڈ کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ اس بار ہنگامہ حجاب کے مسئلہ کو اُچھال کر کیا جا رہا ہے۔ کوشش بھی اس بار یہی ہے کہ حجاب کے ذریعہ لوگوں کو مذہبی بنیاد پر گولبند کیا جائے۔ مگر طویل مدتی منصوبہ یہ ہے کہ حجاب کے ایشوز کی آڑ میں مسلم طالبات کو ناخواندگی کے کنوئیں میں دھکیل دیا جائے اور مظلوم اقلیت پر ہی شدت پسند اور خواتین مخالف ہونے کے بیانیہ کو مزید طاقت دی جائے۔ مگر سب سے افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ لبرل اور حقوق نسواں کے پاسبان اس پورےکھیل کو یا تو سمجھ نہیں رہے ہیں یا دانستہ طور پر سمجھنا نہیں چاہتے ہیں اور کئی بار مظلوم کو ہی قصوروار ٹھہرا کر بھگوا طاقتوں کا کام آسان بنا رہے ہیں۔

حجاب کے مسئلے پر تازہ معاملہ ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک میں سامنے آیا ہے، جہاں بھگوا طاقتیں بر سر اقتدار ہیں ۔کچھ دنوں پہلے کرناٹک انتظامیہ نے حجاب پوش مسلم طالبات کو کلاس روم میں داخل ہونے سے روک دیا ہے، جس کے خلاف زبردست احتجاج ہو رہا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ ملک کی کئی سیکولر اور سماجی انصاف کی پارٹیوں نے مظاہرین کو حمایت کی ہے۔ مگر بھگوا سرکار اپنے فیصلہ کو واپس لینے کے بجائے اس معاملے پر انتہائی افسوسناک بیان دیا ہے کہ ایسے کپڑے مساوات ، ملک کی سالمیت اور نظم و ضبط کو تباہ کرتے ہیں اسے کلاس روم میں پہننے کی اجازت نہیں دی جائےگی اورایسی پابندی شہریوں کے مذہبی آزادی کے خلاف بھی نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے لیے بھگوا حکومت نے کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ 1983 کا بھی سہارا لیا ہے اور کہا ہے کہ کالج کے ذریعہ طے شدہ لباس کو پہننا طلبہ اور طالبات پر لازم ہے۔

ایسی باتیں کہہ کر بھگوا حکومت عدالت اور پبلک کے سامنے خود کو قانون کے راستہ پر چلنے والی سرکار بتلانا چاہتی ہے۔ مگر اس کی اصل منشا مسلمانوں کے زخم میں مزید نمک چھڑکنا ، ان کو پسماندہ اور مذہبی شدت پسندقرار دینا ہے اور خود کو آئین کا محافظ اور مساوات اور خواتین کےحقوق کا چیمپین بتانا ہے۔ مگر سچی بات تو یہ ہے کہ حجاب پر پابنددی لگانے کا یہ فیصلہ نہ صرف مسلم خواتین بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرناک ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو کچھ بھی بھگوا حکومت کر رہی ہے، ویسی نفرت انگیز اور مسلم مخالف پالیسی یوروپ اور دنیا کے دیگر حصوں کی دائیں بازو حکومتوں نے پہلے ہی اپنا لیا ہے اور اس طرح سے انہوں نے سماج کے اندر میں کشیدگی پیدا کی ہے۔ سرکار کو یہ کہتے ہوئے ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی زبان کانپتی ہے کہ کیسے کوئی پوشاک نظم و ضبط کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے؟ کیا سرکار نے کوئی تحقیق کی ہے جس کی بنیاد پر وہ کہ سکتی ہے کہ حجاب پہنے والا جرائم پیشہ ہوتا ہے اور بھگوا چولا پہننے والا نہ تو کسی مذہبی مقامات کو مسمار کر سکتا ہے، نہ ہی وہ کسی فسادات میں حصہ ہی لے سکتا ہے اور نہ وہ بم دھماکہ میں شامل ہو سکتا ہے!

حجاب پر پابندی سے بھگوا طاقتوں کو وقتی فائدہ یہ مل سکتا ہے کہ اس طرح کے تنازعات رائے عامہ کے سمت کو کو بنیادی سوال سے ہٹا کر مذہبی اور جذباتی مسائل کی طرف کر دیتے ہیں۔ بھگوا طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ دن رات دھرم اور مذہب پر بات ہو اور لوگ خود کو اپنے مذہبی تشخص سےباہر نہ دیکھیں ۔ ملک کی اقتصادی پالیسی کس سمت میں جا رہی ہے، لوگوں کو روزگار اور صحت عامہ کی سہولت کس حد تک مل پا رہی ہے، نوجوان کیسی تعلیم لے پار ہے ہیں، ان سارے سوالوں سے بھگوا سیاسی جماعت ہمیشہ سے بھاگتی رہی ہے ۔ کورونا وبا کے دوران بھی جب ساری دنیا بیماری سے لڑ رہی تھی اور غریب اور مزدوروں کو مدد پہنچائی جا رہی تھی، تب بھی بر سر اقتدار بھگوا جماعتوں نے کورونا کا مذہب دھونڈنکالا اور اس کے پھیلاوٴ کے لیے تبلیغی جماعت اور مسلمان کو بلی کا بکرہ بنایا ۔ سرکار کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے، مسلمانوں کو گالی دی گئی اور ان معاشی بائیکاٹ تک کیا گیا۔ بہت سارے مسلمانوں کو جیل تک بھیجا گیا۔کچھ ایسا ہی گیم پلان اس بار حجاب کے تنازعہ میں بھی دکھ رہا ہے۔

حجاب پر بین لگا نے کے پیچھے ایک بڑی سازش یہ ہے کہ پہلے سے ہی تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم خواتین کومزید تعلیمی کے میدان میں پیچھے دھکیلا جائے۔ اصول اور عمل میں بھگوا طاقتیں یہ کبھی بھی نہیں چاہتی ہیں کہ پسماندہ اور اقلیت طبقات کے افراد تعلیم یافتہ ہوں۔ ان کو ڈر ہےکہ اگر محکوم اور مظلوم پڑھ لکھ جائیں گے تو وہ ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں گے اور اس طرح غیر برابری اور استحصال پرمبنی ذات برادری کا یہ نظام ٹوٹ جائے گا اور اس کے مالک بنے ہوئے چند مٹھی بھر لوگوں کے ظلم و زیادتی بند ہو جائیں گی ۔ اعلیٰ طبقات کے اسی نظام نے صدیوں سے دلت، آدی واسی، پسماندہ اور خواتین کو تعلیم سے دور رکھا ۔ مہاتمہ جیوتی با پھُلے اور بابا صاحبَ امبیڈکر ان باتوں کو سمجھتے تھے اور انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا ۔ ان کی قربانیوں کی بدولت آزاد ملک کے درس گاہ کو سب ذات اور دھرم کے لیے کھول دیا گیا ۔ اس وقت بھی اور آج بھی بھگوا طاقتیں یہ نہیں چاہتی ہیں کہ محکوم طبقات تعلیم حاصل کریں ۔حجاب پر بین لگا کر بھگوا حکومت مسلم طالبات کو اَن پڑھ رکھنا چاہتی ہیں، کیونکہ ان بہادر خواتین نے شہریت ترمیمی قانون کے دوران یہ دکھلا دیا تھا کہ عورتیں تحریک کی قیادت کرنا بھی جانتی ہیں۔ یاد رکھیے پرائیویٹ یونیورسٹی اور کالج نے پہلے ہی اپنے کیمپس کے باہر موٹی فیس کی اونچی دیواریں کھڑی کر محکوم طبقات کو تعلیم سے محروم کر ردیا ہے اور جو مسلم خواتین سرکاری تعلیمی اداروں میں کسی طرح پڑھ لیتی تھیں ، اب ان کو باہر کرنے کی ماسٹر پلان تیار کر لیا گیا ہے۔

جہاں ایک طرف بھگوا طاقتیں حجاب پر بین لگا کر اپنی مسلم مخالف سیاست کو آگے بڑھا رہی ہیں، وہیں کچھ لبرل اسکالر اور اکٹویسٹ بھی حجاب کے خلاف بیان دے کر بھگوا سیاسی جماعت کےبیانیہ کو تقویت فراہم کر رہے ہیں۔ان لبر ل جماعت کے ساتھ دقت یہ ہے کہ وہ ریاست اور سماج کو زمین پر دیکھنے کے بجائے کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ یہ سچ بات ہے کہ بھارت میں ایک سیکولر آئین ہے اور یہاں کے شہروں کو مذہب کی آزادی اور اقلیتی حقوق دیے گئے ہیں۔ مگر اچھا قانون بن جانا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ سماج میں سب کو انصاف مل جائےگا ۔ اگر قانون کو نافذ کرنے والے لوگوں کے دلوں میں کھوٹ ہو اور محکوم طبقات کو اقتدار سے باہر رکھا جائے تو سماج میں ظلم کا سلسلہ نہیں روک پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے سماج، معیشت اور سیاست میں اکثریت سماج کا ہی تسلط قائم ہے۔ جب بھگوا طاقتیں اقتدار میں قابض ہو جاتی ہیں تو یہ تسلط صاف طور سے ہر جگہ دکھنے لگتا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا لیڈر کورونا وباکے سارے احتیاط کو طاق پر رکھ کر ایودھیا میں مندر کے سنگ بنیاد کے موقع پر پوجا پر بیٹھ جاتا ہے ، مگر ملک کے ٹی وی چینل اسے سیکولرازم کی پامالی نہیں بلکہ ملک کی مضبوط کرنے والا قدم بتاتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں پروگرام کی شروعات پوجا پاٹھ اور دیپ جلا کر ہوتا ہے، ان سب کاموں کو جائز کہا جاتا ہے۔اتنا ہی نہیں ان موقع پر سنگھ پَرچارک سرکاری مہمان ہوتے ہیں اور و ہ اپنی تقریر میں بھارت کی تمام برائی کے لیے مغلوں اور مسلمانوں کوکوستے ہیں ، مگر اس پر کوئی نوٹس نہیں لیتا ۔ وہیں دوسری طرف با حجاب خواتین کو مجرم سمجھ کر درس گاہوں میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے۔ یہ پابندی سرکار کی بیٹی بچا وٴ اور بیٹی پڑھاوٴ کی سچائی کو بھی بیان کرتی ہے۔ اس بڑی سازش سے لڑنا ہی ہوگا ۔ظلم کے خلاف مزاحمت ہی تو زندہ ہونے کی علامت ہے۔

(مضمون نگار جے این یو سے تاریخ میں پی ایچ ڈی ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN