نئی دہلی :(ایجنسی)
اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں زبردست جیت درج کی ہے۔ پنجاب کی کل 117 سیٹوں میں سےآپ کو 91 سیٹوں پر جیت ملی۔
اس جیت کے بعد اروند کیجریوال نے کہا کہ آپ کی جیت انقلاب ہے اور یہ انقلاب پورے ملک میں پھیلے گا۔ کیجریوال نے کہا کہ اب ملک کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ اروند کیجریوال نے واضح طور پر کہا کہ ان کی پارٹی اب قومی سطح پر پھیلے گی۔
کیجریوال نے کہا، ’’ہم نے 75 سال ضائع کیے ہیں۔ مزید وقت برباد نہیں کرنا ہے۔ سب کو عام آدمی پارٹی میں شامل ہونا چاہئے۔ آپ پارٹی نہیں انقلاب ہے۔ عام آدمی پارٹی بھگت سنگھ کے خواب کو پورا کر رہی ہے۔
پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی جیت کے بعد پارٹی لیڈر راگھو چڈھا نے کہا کہ آپ کانگریس کی جگہ لے گی۔ آپ نے خود کانگریس کو شکست دے کر پنجاب میں اقتدار حاصل کیا ہے۔ گوا میں بھی عام آدمی پارٹی نے دو سیٹیں جیتی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ گوا میں بھی آپ نے کانگریس کے ووٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔
پنجاب میں جیت کے بعد اروند کیجریوال دہلی کے کناٹ پلیس میں ہنومان مندر پہنچے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے کابینی وزرا منیش سسودیا اور ستیندر جین بھی تھے، حالانکہ اس سے قبل بھی عام آدمی پارٹی نے قومی سطح پر اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کی تھی لیکن اسے زیادہ کامیابی نہیں ملی تھی۔
لیکن اس بار پنجاب میں آپ کی زبردست جیت کے بعد پارٹی کے حوصلے بلند ہیں۔ پہلی بار آپ کی حکومت ایسی ریاست میں بنی ہے جہاں مرکز کی مداخلت دہلی جیسی نہیں ہوگی۔
عام آدمی پارٹی 2012 میں ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ نے بنائی تھی۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں آپ نے 400 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے۔ خود کجریوال بھی بنارس سے نریندر مودی کے خلاف میدان میں تھے۔ لیکن عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں صرف چار سیٹیں جیتی تھیں۔ اس کے بعد سے قومی سطح پر عام آدمی پارٹی کی آمد رک گئی تھی۔
2015 کے دہلی اسمبلی انتخابات میںآپ نے 70 میں سے 67 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس جیت کے بعدآپ کی امید بڑھ گئی لیکن کچھ ہی دیر میں یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو پارٹی سے معطل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے عام آدمی پارٹی نے کئی ریاستوں میں الیکشن لڑا، لیکن 2017 میں وہ صرف پنجاب میں کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہی۔ پنجاب میں آپ نے 2017 میں 20 سیٹیں جیتی تھیں۔
2020 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں، عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 62 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی راتوں رات کانگریس کی جگہ نہیں لے سکتی، لیکن کانگریس کی جگہ خالی ہے اورآپ میں اسے بھرنے کی صلاحیت ہے۔
آپ کی اس جیت کے بعد کہا جا رہا ہے کہ 2024 میں کیا اروند کیجریوال اپوزیشن کی جگہ لیں گے؟ اشونی کمار، جو کانگریس کی منموہن سنگھ حکومت میں وزیر قانون تھے، نے دی ہندو کو بتایا ہے کہ آپ اورٹی ایم سی متبادل سیاسی بات چیت کے اہم کھلاڑی بن گئے ہیں۔










