نئی دہلی بی جے پی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق ایک سوال کے جواب کے سلسلے میں انٹرنیٹ کمپنی گوگل کو نوٹس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔
بی بی سی کے مطابق گوگل کی مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پلیٹ فارم جیمنی پر ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم مودی پر ’بے بنیاد‘ الزامات لگانے کے لیے حکومت ہند کمپنی کو نوٹس بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔
میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک صارف نے اسے پوسٹ کیا تھا جس کے بعد انڈیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر راجیوچندرشیکھر نے اسے سنجیدگی سے لیا۔
جبکہ گوگل نے کہا ہے کہ جیمنائی اے آئی ٹول بطور خاص طور پر حالات حاضرہ کے واقعات، سیاسی موضوعات یا بدلتی ہوئی خبروں کے معاملے میں ہمیشہ قابل اعتماد نہیں ہوسکتاایک ٹوئٹر صارف کی پوسٹ کے جواب میں راجیو چندر شیکھر نے اشارہ دیا ہے کہ حکومت اس کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ انھوں نے لکھا: ’یہ آئی ٹی ایکٹ کے تحت آئی ٹی رول 3 (بی) اور فوجداری قانون کی متعدد دفعات کے تحت براہ راست خلاف ورزی ہے۔‘شریموئے تالکدار نامی ٹوئٹر صارف نے ایک اور پوسٹ فارورڈ کرتے ہوئے لکھا کہ گوگل کے اے آئی کی جانب سے ایک سوال کے جواب میں دیا گیا جواب تعصب کو ظاہر کرتا ہے اور حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
معاملہ کیا ہے؟شریموئے تالکدار نامی صارف نے ایک ٹویٹ فارورڈ کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ جب مصنوعی ذہانت جیمنائی سے مودی کے بارے میں پوچھا گیا کہ ’کیا مودی فاشسٹ ہیں‘ تو ان کا جواب تھا کہ ’ان پر ایسی پالیسیاں نافذ کرنے کا الزام ہے جو کچھ ماہرین کے مطابق فاشزم ہے۔‘
بی بی سی کے مطابق لیکن جب وہی سوال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں پوچھا گیا تو گوگل کی مصنوعی ذہانت جیمنائی نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
زیلینسکی کے حوالے سے اے آئی نے لکھا: ’یہ سوال پیچیدہ ہے، اس کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔‘
جبکہ ٹرمپ کے بارے میں پوچھے گئے اسی طرح کے سوال پر جیمنائی نے لکھا: ’مسلسل بدلتی ہوئی معلومات کے درمیان انتخابات ایک پیچیدہ موضوع ہیں۔ درست اور تازہ ترین معلومات حاصل کرنے کے لیے گوگل سرچ پر تلاش کرنے کی کوشش کریں۔‘
معروف مصنف ارنب رے نے ان تینوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دیکھیں اس مصنوعی ذہانت کو کیسے تیار کیا گیا ہے۔ جیمنائی کو شرم آنی چاہیے۔
میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی جا رہی ہے گوگل کو اس معاملے میں نوٹس بھیجی جا رہی ہے۔ حکومت سوال کر رہی ہے کہ اے آئی کو کس طرح تربیت دی گئی ہے اور کن ذرائع کی بنیاد پر اے آئی نے اپنے جوابات تیار کیے ہیں۔ وہ ’ماہرین‘ کون ہیں جن کا اے آئی نے اپنے جواب میں ذکر کیا ہے؟
دی ہندو بزنس لائن کے مطابق گوگل نے سنیچر کے روز اس معاملے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جیمنائی اے آئی ٹول کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ’فوری‘ کام کیا ہے۔
گوگل کے ترجمان نے کہا: ’ہم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا ہے۔ جیمنی کو تخلیقی اور پیداواری ٹول کے طور پر بنایا گیا ہے اور یہ ہمیشہ قابل بھروسہ نہیں ہو سکتا، خاص طور پر جب حالات حاضرہ کے واقعات، سیاسی موضوعات، یا بدلتی ہوئی خبروں کے بارے میں کچھ اشارے پر جواب دینے کی بات آتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جسے ہم بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔‘
جہاں بہت سے لوگوں نے مصنوعی ذہانت پر متعصب ہونے کا الزام لگایا ہے وہیں بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہنے کی کوشش کی ہے کہ انسان خطا کر سکتا ہے لیکن مصنوعی ذہانت عام طور پر درست معلومات فراہم کرتی ہے۔
لب ابھیلاشا نامی ایک صارف نے انڈین ایکسپریس کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’انسان غلط ہو سکتا ہے لیکن اے آئی زیادہ تر صحیح ہوتا ہے۔ یہ بات دنیا بھر میں مشہور ہے کہ مودی فاشسٹ پالیسیاں اپناتے ہیں۔ اے آئی معروف بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا کی بڑی تعداد سے سیکھ کر علم حاصل کرتا ہے۔‘









