محصور غزہ کے وسطی علاقے میں بمباری سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی زمینی کارروائی کا تیسرا مرحلہ شروع کرنے والا ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق ممکنہ طور پر اس نئے جنگی آپریشن سے مزید تباہی اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی ایک نئی لہر وجود میں آنے کا خطرہ ہے۔
اسرائیلی فورسز شمالی غزہ اور جنوبی شہر خان یونس میں پہلے ہی شدید شہری لڑائی میں مصروف ہیں۔ ان علاقوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے پہلے ہی پناہ کے لیے بہت کم جگہ بچی ہے۔
سویلین ہلاکتوں میں کمی کے مطالبات اور جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز پھر کہا تھا، ”غزہ کی جنگ ابھی خاتمے کے قریب نہیں۔‘‘
اسرائیل کا غزہ پر حملہ حالیہ تاریخ کی سب سے تباہ کن فوجی مہمات میں سے ایک ثابت ہوا ہے۔ غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تقریبا 21 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے دو تہائی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔
اسرائیلی بمباری میں شدت
اسی دوران درجنوں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے منگل کو غزہ میں 100 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ حماس کے زیر کنٹرول وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 52 افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے گزشتہ روز فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آنے والے دنوں کے دوران حملوں میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔ قبل ازیں حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ کیا تھا، جس میں تقریباﹰ 1200 اسرائیلی مارے گئے تھے اور 240 کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
دریں اثنا ایسے نئے اشارے مل رہے ہیں کہ حماس اور اسرائیل کی جنگ اس پورے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے۔ شام میں کیے جانے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ایرانی جنرل مارا گیا ہے اور اس کے جواب میں ایران نے بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب امریکی افواج نے عراق میں ایران نواز ملیشیا کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی حمایت یافتہ عسکری تنظیم کتائب حزب اللہ سے وابستہ گروپوں کی تین تنصیبات پر ”مناسب‘‘ حملے کیے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ کارروائیاں عراق اور شام میں امریکی فوجیوں کے خلاف ان جنگجوؤں کے حملوں کے جواب میں کی گئیں۔ انہوں نے خاص طور پر پیر کے روز شمالی عراق میں کرد خود مختار علاقے اربیل میں فضائی اڈے پر حملے کا حوالہ دیا، جہاں تین امریکی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔
اسی طرح تقریباً روزانہ ہی لبنانی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی فورسز میزائلوں، فضائی حملوں اور گولہ باری کا تبادلہ کر رہے ہیں۔(سورس:ڈی ڈبلیو)









