غزہ:اسرائیل بے گناہ فلسطینی شہریوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے- تازہ اطلاع کے مطابق محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ غزہ کے دیر البلاح میں ایک اسکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 30 فلسطینی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حماس کے کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا ہے۔ معلومات کے مطابق جن لوگوں پر حملہ کیا گیا ان میں زیادہ تر بے گھر افراد تھے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے "مرکزی غزہ میں خدیجہ اسکول کے احاطے میں حماس کے کمانڈ اور کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا تھا” تاہم، اس اسکول کو فوجیوں کے خلاف حملوں اور ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملے سے پہلے وہاں کے شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں پر حملہ ہوا ہے ان میں سے بیشتر نقل مکانی کر یہاں پہنچے تھے۔ حملے کے بعد اسکول احاطہ میں ہر طرف خون ہی خون پھیلا ہوا دکھائی دیا۔ زخمیوں کو ایمبولنس کی مدد سے الاقصیٰ اسپتال لے جایا گیا۔ معمولی طور پر زخمی کچھ افراد پیدل بھی اسپتال پہنچے
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کمانڈ سنٹر پر حملہ کیا تھا۔
اس حملہ کے بعد اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ’’وسطی غزہ میں خدیجہ اسکول احاطہ کے اندر حماس کمانڈ اور کمانڈ سنٹر کو ہدف بنایا گیا تھا۔‘‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول کا استعمال فوجیوں کے خلاف حملہ کرنے اور اسلحہ رکھنے کی شکل میں کیا جا رہا تھا۔ اسرائیلی فوج نے مطلع کیا تھا کہ حملہ سے قبل وہاں کے شہریوں کو آگاہ کر دیا گیا تھا، لیکن جس طرح سے ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ فکر انگیز ہیں۔
بڑی تعداد میں شہریوں کی موت کے لیے اسرائیلی فوج نے حماس کے دہشت گردوں کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ہی اسکول کو دہشت گردی کا ٹھکانہ بنایا تھا، اس لیے اس پر حملہ کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے حماس پر کثیر آبادی والے علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں میں چھپ کر کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ حالانکہ حماس نے اسرائیلی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض الزام ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسکول میں صرف پناہ گزیں تھے۔










