غزہ کی پٹی میں متوقع جنگ بندی کے موقع پر اسرائیلی وزیر اور جنگی کونسل کے رکن گیڈون ساعر نے زور دے کر کہا ہے کہ "حماس کی شکست سے پہلے جنگ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے”۔
ساعر نے جمعرات کی شام زوم کے ذریعے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "یہ معاہدہ طے پانے کے بعد بھی جنگ جاری رہے گی۔ حماس کی شکست سے پہلے جنگ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ "حماس کے اقتدار میں ہونے پر جنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے اور جب حماس کے پاس اسرائیل کو دھمکی دینے کی صلاحیت ہے تو جنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ کابینہ کا فیصلہ ہے اور ہم اس پر عمل کریں گے”۔
جہاں تک شمالی محاذ کا تعلق ہے تو انہوں نے مزید کہا کہ”ہمیں شمال میں بھی تبدیلی کے لیے حالات پیدا کرنے چاہییں۔ اگلا دن پہلے والے دن جیسا نہیں لگ سکتا۔ ہمیں لبنانی سرحد کے ساتھ ایک مختلف حقیقت کو ڈیزائن کرنا ہو گا۔ لبنان کی طرف سے ہماری بستیوں کو درپیش خطرات کو ختم کرنا ہوگا‘‘۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان چار دنوں کے لیے جنگ بندی جمعہ کے روز غزہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے سے شروع ہو جائے گی۔ جبکہ اسرائیلی قیدیوں کی پہلی کھیپ شام چار بجے غزہ سے رہائی پا سکے گی۔ اس امر کا اعلان قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے جمعرات کی شام کیا ہے۔قطری اعلان کے مطابق جنگ بندی جامع ہو گی اور شمالی غزہ کے ساتھ ساتھ جنوبی غزہ میں برابر نافذ العمل ہو گی۔ اس دوران غزہ کے لیے امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔








