قومی دارالحکومت دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں آج ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی جانب سے ” فلسطین میں ہو رہے قتل عام پر ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس دوران دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ جب نسل کشی ہو رہی ہو یا قتل عام ہو رہا ہو تو وہ بحث کا موضوع نہیں ہوتا اس میں ہمیں اپنے اسٹینڈ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ ہم اس نسل کشی کے خلاف اس کے ساتھ درمیان میں کھڑے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہیں یا رہتی
پروفیسر اپوروانند نے واضح طور پر کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے نہ ہوں انہوں نے کہا کہ ابھی کا مطالبہ یہی ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی ہو، اور اس لیے ہونی چاہیے کیونکہ کوئی بھی ایک انسانی جان گنوائی نہیں جا سکتی۔ جنگ بندی
ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں عام شہریوں کو بندھک نہیں بنایا جانا چاہیے اس کے لیے حماس بھی اس کے لیے پابند ہو لیکن اس سے پہلے اسرائیل کو بھی فلسطین کے 10 ہزار نوجوانوں کو اپنے جیلوں سے رہا کرنا ہوگا جنہیں بندھک بنایا گیا تھا
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر سید قاسم رسول الیاس نے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ فلسطینی عوام کی خون ریزی اب بند ہونی چاہیے، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہمارے ملک بھارت کا جو رویہ فلسطین اور اسرائیل جنگ میں اب تک دیکھنے کو ملا ہے وہ اطمینان بخش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو اس معاملے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے اور جنگ بندی میں اہم ذمہ داری ادا کرنی چاہیے کیونکہ ہمارا ملک شروع سے ہی دنیا کے کسی بھی کونے اگر زیادتی ہوتی ہے تو بھارت ہمیشہ ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر بھارت حقیقت میں وشو گرو بننا چاہتا ہے تو اسے نیوٹرل نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس جنگ بندی اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
سینیئر صحافی جان دیال نے کہا آج اسرائیل فلسطین کے درمیان جاری جنگ کو 40 روز گزر چکے ہیں لیکن بھارتیہ حکومت ابھی بھی اسرائیل کے حق میں بولے جا رہی ہے جبکہ بھارت کو فلسطینی عوام کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی عوام تو مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے آخر بھارتیہ حکومت کس کا ساتھ نبھ رہی ہے۔ جان دیال نے بھارتیہ حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطین میں زخمی بچوں کی مدد کے لیے بھارت میڈیکل امداد کی ایک اور کھیپ جلد روانہ کریں.








