اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اپنے فوجی آپریشن سے متعلق زیادہ معلومات نہیں شئیر کر سکتے ہیں۔ تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ اس علاقے میں حماس کے خلاف لڑائی جاری ہے۔اسرائیلی افواج کے مطابق وہ حماس کے برعکس عام شہریوں کے نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
الشفا ہسپتال کے ایک سرجن مروان ابو سادا کے مطابق جو لوگ ہسپتال سے نکل کر جا رہے تھے انھیں ہسپتال کے باہر سڑکوں پر گولیاں مار دی گئیں۔ان کے مطابق انجنیئرنگ کی ایک ٹیم ہسپتال کے آئی سی یو یونٹ اور نومولود بچوں کی وارڈ کو بجلی فراہم کرنے والے جنریٹرز کو دیکھنے گئے تو انھیں بھی گولیاں ماری گئیں، جس سے ٹیم کا ایک رکن معذور ہو گیا۔
بی بی سی کا کہنا ہے کہ وہ ابھی ان واقعات کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کو تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
سرجن نے مزید بتایا کہ گذشتہ روز الشفا ہسپتال میں اجتماعی قبریں کھودنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ان کے مطابق اسرائیلی بمباری سے وہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
انھوں نے کہا کہ ہسپتال کے ریفریجریٹر کے پاس پڑی لاشوں کی وجہ سے وبا پھیلنے کا خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے یہ ریفریجریٹر نہیں چل رہا ہے۔اسرائیل نے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ ہسپتالوں کا ہدف نہیں بناتے ہیں۔ اب تازہ صورتحال کے پیش نظر ہم نے اسرائیل سے تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
بی بی سی کے بین الاقوامی ایڈیٹر جیریمی بووین جو اس وقت اسرائیل میں ہیں انھیں الشفا ہسپتال میں ایک سرجن مروان ابو سعدہ کی طرف سے آڈیو نوٹ موصول ہوا ہے۔سعدہ کہتے ہیں کہ انتہائی نگہداشت کے مرکزی یونٹ (آئی سی یو) کو نشانہ بنایا گیا ہے اور فائرنگ اور بمباری کی آوازیں ’ہر سیکنڈ‘ گونج رہی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی ہسپتال سے باہر نہیں نکل سکتا، اور نہ ہی کوئی اندر آ سکتا ہے۔ڈاکٹر کا مزید کہنا ہے کہ ہسپتال میں اب پانی، کھانا یا بجلی نہیں ہے۔
سعدہ کا کہنا ہے کہ ’وینٹی لیٹر پر موجود دو مریض اب دم توڑ چکے ہیں، جن میں سے ایک بچہ تھا۔‘اس سے پہلے حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے بھی ایک نوزائیدہ بچے کی موت کی اطلاع دی تھی۔








