اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی مشہور کمانڈو فورس گولانی بریگیڈ کو غزہ کی پٹی سے واپس بلا لیا ہے۔
12 دسمبر کو غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ نامی قصبے میں حماس کے جنگجوؤں نے قابض افواج پر شب خون مارا تھا جس کے نتیجے میں گولانی بریگیڈ کے دو اعلیٰ افسران سمیت متعدد فوجی ہلاک ہو گئے تھے
ہلاک ہونے والوں میں 13 ویں بٹالین کے کمانڈر کرنل ٹومر گرنبرگ اور گولانی بریگیڈ کے سربراہ کی فارورڈ کمانڈ ٹیم کے سربراہ کرنل اسحٰق بن باسط شامل ہیں۔گولانی بریگیڈ کے دو افسران اور فوجی ایک عمارت کے اندر داخل ہوتے وقت قاسم بریگیڈ کے جنگجوؤں کی جانب سے لگائے جال میں پھنس گئے۔ کئی فوجی دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (آئی ای ڈی) کا نشانہ بنے، جب کہ ان کی مدد کے لیے آنے والی ایک اور اسرائیلی ٹیم بھی دیسی ساختہ بموں کی زد میں آ گئی۔ اس کے علاوہ ان پر آس پاس کی اونچی عمارتوں سے فائرنگ بھی ہوئی جس کی وجہ سے کئی فوجی مارے گئے۔
گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ گولانی بریگیڈ کے کمانڈر اور سپاہی شجاعیہ کے القصبہ کے علاقے میں فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ دوبدو لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں۔فوج نے ایک بیان میں کہا کہ گولانی بریگیڈ کے فوجیوں نے شجاعیہ کالونی میں سخت جنگ لڑی ہے جس میں علاقے میں جنگجوؤں اور ان کے ارکان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فلسطینی جنگجو شہری عمارتوں اور زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کے اندر سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے حملہ آور اسرائیلی فورسز کو ایک رہائشی عمارت کے اندر سے دھماکہ خیز مواد اور گولیوں سے نشانہ بنایا۔









