غزہ کے الشفا ہسپتال میں اسرائیلی فوجی ٹینکوں سمیت داخل ہو گئے ہیں۔ اس ہسپتال میں موجود عینی شاہد خادر زاناؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ میں نے ہسپتال کے اندر چھے اسرائیلی فوج کے ٹینک اور سو سے زائد اسرائیلی فوجی دیکھے ہیں۔ وہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے مرکزی گیٹ سے داخل ہوئے۔ ان میں سے کچھ فوجیوں نے ماسک پہن رکھے تھے اور وہ عربی میں چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ’کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے‘۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ الشفا ہسپتال میں حماس کے خلاف "آپریشن” کر رہا ہے جب اس کی فورسز نے غزہ شہر میں ہیلتھ کمپلیکس پر چھاپہ مارا۔
الشفاء کے اندر موجود ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی چھاپے سے مریضوں، بے گھر افراد اور مرکز میں موجود صحت کے کارکنوں میں خوف پھیل گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے غزہ کی الشفا ہسپتال میں اسرائیلی فوج کے داخلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ہسپتال میں فائرنگ اور مسلح لڑائی نہیں دیکھنا چاہتا۔
وائٹ ہاؤس کے نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم فضا سے ہسپتال پر بمباری کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی ہسپتال میں جہاں معصوم، بے سہارا اور مریض زیر علاج ہیں مسلح لڑائی نہیں دیکھنا چاہتے۔‘۔
دریں اثناحماس نے غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کے اسرائیلی فوج کی طرف سے محاصرے کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔حماس نے کہا ہے کہ اس اسرائیلی اقدام کے امریکی صدر واحد ذمہ دار شخص ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے ترجمے کے مطابق ’حماس نے اس اسرائیلی قبضے کے لیے صدر بائیڈن اور قابض فوج کو الشفا ہسپتال پر حملے کا اس ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔‘
حماس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے اسرائیلی دعوؤں کہ الشفا کو حماس فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے کی امریکہ کی طرف سے اجازت ملنے پر اسرائیل نے یہ حملہ کیا ہے۔








