حماس نے غزہ میں ٹینکوں کے ساتھ داخل ہونے کی کوشش کرنے والی اسرائیلی فوجوں کو ایک بار پھر پسپا کردیا۔
پیرکے روز حماس کی اسرائیلی فوج سے جھڑپ ہوئی جو غزہ کی صلاح الدین اسٹریٹ میں ٹینکوں کے ساتھ داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی تاہم زبردست مزاحمت کے ذریعے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔
میڈیا ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے کہنے کے برعکس، غزہ کی پٹی میں رہائشی محلوں کے اندر کوئی زمینی پیش رفت نہیں ہوئی
غزہ:اسرائیلی ٹینک غزہ کے مضافات پر جمع ہوگئے اور چاروں جانب سے شہر میں داخل ہوکر کسی بڑے حملے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم حماس کے جانبازوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
دریں اثنا غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں برّی کارروائیوں کی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کردی۔ مضافاتی علاقوں اسرائیل فوج کے درجنوں ٹینک پہنچ گئے اور ایک ساتھ غزہ پر چڑھائی کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔
حماس کی سخت مزاحمت کے باعث تاحال اسرائیلی ٹینک غزہ شہر میں داخل نہیں ہوسکے اور ان کی پیش قدمی رک گئی ہے۔حماس کے جانباز سامان جنگ کی قلت اور 24 روز سے جاری بمباری کے باوجود مستعد کھڑے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے تاحال غزہ کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ بجلی، پانی اور خواراک کی فراہمی معطل ہے۔ ایندھن کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال میں جنریٹرز بند ہوگئے اور ہزاروں طبی مراکز بند ہوگئے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے جنگ بندی کے مطالبات کو سختی سے مسترد کردیاہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کا کہناہے کہ بنجمن نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 7 اکتوبر سے پہلے کی پوزیشن پر واپسی نہیں ہو سکتی۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے نشاندہی کی کہ “اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں ہمیشہ کے لیے موجود رہنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، لیکن ہم حماس کو ختم کرنے کے لیے مقاصد پورے ہونے تک وہیں رہیں گے۔








