غزہ میں حماس کے زیر انتظام شہری دفاع کی ایجنسی کے مطابق اس ساحلی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس اور اس کے ارد گرد 22 جولائی کو شروع ہونے والے اسرائیلی فوجی آپریشن کے بعد سے اب تک 300 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل نے اے ایف پی کو بتایا، ”خان یونس کے مشرقی حصے پر اسرائیلی زمینی حملے کے بعد شہری دفاع اور طبی ٹیموں نے تقریباً 300 لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں سے اکثر کی حالت بہت خراب ہے۔‘‘
اسی دوران آج منگل 30 جولائی کے روز اسرائیلی فوج کی جانب سے خان یونس میں ایک ہفتے سے جاری آپریشن کے خاتمے کے بعد ہزاروں فلسطینی خان یونس کے کھنڈرات میں اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس فوجی کارروائی کا مقصد عسکریت پسند گروپ حماس کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا تھا۔
فلسطینی امدادی کارکنوں اور شہریوں نے جنگ زدہ گلیوں سے لاوارت لاشیں جمع کیں اور قالینوں میں لپٹی لاشوں کو کاروں میں یا گدھا گاڑیوں پر لاد کر مردہ خانے تک پہنچایا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے ایک ہفتے تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران 150 سے زائد مسلح فلسطینی عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ کئی سرنگیں بھی تباہ کیں اور ہتھیار برآمد کیے۔










