نئی دہلی:(ایجنسی)
تبدیلی مذہب اور غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں گرفتار مولانا کلیم صدیقی کا ریمانڈ کل ختم ہورہا ہے ۔ پرسوں ان کو کورٹ میں پیش کیا جائےہ گا۔ فریق استغاثہ ان کا مزید ریمانڈ لینے کی کوشش کرے گا، جبکہ فریق دفاع آن کی عدالتی تحویل کے لیے بحث کریں گے ۔
وکلاء کا کہنا ہے چونکہ الزامات بہت سنگین ہیں، جس میں سڈیشن کا چارج بھی شامل ہے اس لیے مقدمہ لمبا چلنے کا امکان ہے اور فی الحال ضمانت ملنے کی امید بہت کم ہے اور پرسوں کی پیشی میں ممکن ہے۔ عدالت جیل بھیج دے یا ریمانڈ دے دے یہ تو بحث کے رخ اور دلائل پر منحصر ہے۔تاریخ تو یہ رہی ہے کہ ایسے مقدمات جلد فیصل نہیں ہوتے۔ ان کے ایک وکیل ابوبکر سباق کا کہنا ہے کہ امید بہتر رکھنی چاہیے۔آئین نے جمہوری و بنیادی حق دیا ہے۔ احتجاج کرنے اور اپنے جذبات کے اظہار کا،مگر ایسے ہر معاملہ میں جذبات اور جوش کو ہوش کی لگام سے باندھنا چاہیے۔










