نئی دہلی:
حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے لوٹے جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ انہوں نے آرٹیکل 370 کی بحالی کا مطالبہ کو ترک نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ موجودہ حکومت اسے بحال کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس میٹنگ کو ’جدوجہد کا آغاز‘ بتایا ہے۔ دہلی میں ہوئی اس میٹنگ کا سب سے بڑا موضوع آرٹیکل 370 کو ہی مانا جارہا تھا، لیکن خبر تھی کہ میٹنگ میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس میٹنگ میں محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ، غلام نبی آزاد، عمر عبداللہ سمیت ریاست کے 14 لیڈران موجود تھے۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، عمرعبداللہ نے کہا کہ موجودہ حخومت سے آرٹیکل 370 کی بحالی کا مطالبہ کرنا بے وقوفی ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’آرٹیکل 370 کو لے کر سیاسی ایجنڈا پورا کرنے میں بی جے پی کو 70 سال لگے۔ ہماری جدوجہد کا ابھی آغاز ہوا ہے۔ ہم لوگوں کو یہ کہہ کر بے وقوف نہیں بنانا چاہتے کہ ان بات چیت سے ہم 370 کو دوبارہ حاصل کرلیں گے۔ اس بات کی امید کرنا کہ 370 واپس آئے گا، یہ بے وقوفی ہے‘۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، عمرعبداللہ نے کہا کہ موجودہ حخومت سے آرٹیکل 370 کی بحالی کا مطالبہ کرنا بے وقوفی ہوگی۔ فائل فوٹو’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، عمرعبداللہ نے کہا کہ موجودہ حخومت سے آرٹیکل 370 کی بحالی کا مطالبہ کرنا بے وقوفی ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق، عمر عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ جمعرات کی میٹنگ میں اس موضوع کو نہیں اٹھائے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نیشنل کانفرنس نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم قانونی، پرامن اور آئینی طریقے سے اپنا کام کریں گے۔ ہم بردباری سے لڑ رہے ہیں… اسے سپریم کورٹ میں لڑا جا رہا ہے، جہاں ہمارے پاس سب سے زیادہ موقع ہے‘۔ انہوں نے اطلاع دی کہ وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے میٹنگ کو لے کر کوئی شرائط نہیں رکھی تھی۔
جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا، ’ہمارے دو بنیادی مقصد ہیں۔ پہلا یہ جاننا کہ ہندوستانی حکومت کے دماغ میں کیا چل رہا ہے اور آگے کا روڈ میپ کیا ہے۔ دوسرا، ہم اپنی بات کو بھی رکھنا چاہتے تھے۔ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو جو بھی کہا ہے، وہ سری نگر میں کہی گئی باتوں سے الگ نہیں ہے۔ تب ہم نے کہا تھا کہ انہوں نے جو بھی کیا، وہ غلط تھا اور بڑی آبادی اس سے ناخوش ہے‘۔










