اردو
हिन्दी
جون 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

وقف ترمیمی قانون کے خلاف جماعت اسلامی ہند بھی سپریم کورٹ پہنچی ،پٹیشن میں کئی اہم نکات اٹھائے

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
415
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی: وقف ترمیمی قانون 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ یہ عرضی جماعت  کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر و دیگر مرکزی ذمہ داران مولانا شفیع مدنی اور انعام الرحمن خان کے ذریعے داخل کی گئی ہے۔ عرضی  میں  نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات ، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسر خلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردار کو متاثر کرنے والی ہیں ۔ عرضی میں بھارتی آئین کی دفعہ 14، 15، 16، 25، 26 اور 300 اے کے خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے  انھیں ختم کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔
پٹیشن میں اٹھائے گئے اہم نکات:
1: بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا مسئلہ:
اس ترمیم  شدہ ایکٹ نے وقف کی تعریف اور اس  کی بنیادی ساخت کو  بدل دیا ہے۔ وقف پر غیر ضروری پابندیاں لگا دی گئی ہیں کہ کون وقف کر سکتا ہے اور ان کا انتظام و انصرام کیسے کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اب وقف کنندہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم سے کم پانچ سال تک اسلام کا پیروکار رہا ہے جبکہ اسلام  میں وقف کنندہ کے لیے ایسی کوئی بھی شرط نہیں ہے۔ یہ غیر ضروری شرط براہ راست آرٹیکل 25 اور 15 کے خلاف ہے جس میں مذہبی آزادی اور امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
2: وقف بورڈ کی خود مختاری پر حملہ:
اس نئے قانون کے ذریعے وقف بورڈ میں منتخب افراد کی جگہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عہدیداروں کو شامل کرنے کا راستہ کھول دیا گیا ہے جن میں غیر مسلم اور وقف کے لیے مطلوبہ فقہی مسائل سے ناواقف افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ یہ قانون بنیادی طور پر ملک میں مختلف مذہبی طبقات کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے لیے دیئے گئے حق کے خلاف ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس نئے قانون میں سی ای او کے لیے مسلمان ہونے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے  جس سے بورڈ میں مسلمانوں کی نمائندگی کے شدید طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے ۔
3: وقف املاک پر ناجائز قبضہ جات کا مسئلہ:
قانون کے سیکشن 3ڈی کو جلد بازی میں من مانے ڈھنگ سے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے محفوظ یادگار قرار دی گئیں تمام وقف شدہ ملکیتوں کو وقف بورڈ کے کنٹرول سے نکال کر اے ایس آئی کی ملکیت بنایا جا سکے چاہے ان مقامات کی تاریخی ومذہبی حیثیت و اہمیت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ یہ شق بنیادی طور پر قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کے  ایکٹ 1958 کے سیکشن 6 کو ختم کردیتی ہے جوکہ وقف املاک سے متعلق ہے ۔ مزید براں اس قانون کی وجہ سے تجاوزات کرنے والوں کو وقف اراضی پر منفی قبضہ کرنے کے لیے دعویٰ کرنے کا حق مل جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کے وقف املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
4: کمیونٹی کنسلٹیشن کی ناکامی:
ترامیم کی حساسیت کے باوجود اس بل کو جلد بازی میں منظور کیا گیا ۔ منصفانہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے پارلیمانی کارروائی کے دوران سیکشن 3ڈی اور 3 ای جیسی تبدیلیاں آخری وقت میں شامل کی گئیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مختلف مسلم تنظیموں بشمول جماعت اسلامی ہند نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اس قانون پر اپنے اعتراضات درج کرائے تھے مگر انہیں نظر انداز کردیا گیا۔ اسٹیک ہولڈرز اور وقف سے متعلق تنظیموں و افراد کی شمولیت کو نظر انداز کرکے قانون بنانا، مسلمہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
اضافی قانونی دلائل:
وقف بائے یوزر کی شق کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ رام جنم بھومی بابری مسجد کیس و دیگر کئی سابقہ عدالتی فیصلوں میں یہ بات موجود ہے کہ استعمال اور تاریخی تسلسل کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا جانا چاہئے ۔ لال شاہ بابا درگاہ، شیخ یوسف چاولہ اور رامجس فاؤنڈیشن کے فیصلوں میں بھی یہ کہا گیا کہ مذہبی اوقاف کو کمیونٹی کے استعمال اور تاریخی تسلسل کے حوالے سے پرکھا جانا چاہئے نہ کہ حکومتی رکارڈ کو بنیاد بنا کر۔
جماعت اسلامی ہند اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ وقف، اسلامی عقیدے و تہذیب نیز ہندوستانی ورثے کا ایک اٹوٹ حصہ ہے جس کا خیرات، تعلیم اور سماجی بہبود سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے مذہبی اور اجتماعی کردار کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر آئینی اور غیر منصفانہ ہے۔ جماعت سول سوسائٹیز، قانونی ماہرین اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وقف قانون کو من مانی طریقے پر ختم کرنے کے خلاف آواز بلند کریں اور اس آئینی چیلنج  کا سامنا کرنے کے لیے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

ٹیگ: approachedjamat e islami hindnews to daypetitionsaleem ingeniersupreme courtWaqf Act

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

22 اپریل
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے
خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

21 اپریل
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ
خبریں

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

21 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN