نئی دہلی:آ(ر کے بیورو )
ہندستان کی دوسری سب سے قدیم ،منظم، اپنے وسائل،افرادی قوت ،مضبوط نیٹ ورک اور ملک ملت کی فلاح بہبود کے لئے لگاتار ٹھوس اقدامات کے حوالہ سے الگ شناخت رکھنے والی تنظیم جمعیتہ علمائےہند خود کو جدید جمہوری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی سمت میں انقلابی قدم بڑھانے جارہی ہے
مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیتہ علما ئے ہند کی مرکزی مجلس منتظمہ کا اجلاس چار اور پانچ جولائی کو نئی دہلی میں ہونے جارہاہے، جس میں ملک بھر سے کم وبیش دوہزار ممبر حصہ لیں گے
اس اجلاس میں مسلم ریزرویشن،اوقاف،مدارس کے تحفظ سمیت مختلف تجاویز پیش کی جائیں گی مگر ان سب سے اہم تجویز اگر منظور ہوگئی تو یہ جمعیتہ کی تاریخ کا ٹرننگ پوانٹ مانا جائے گا -وہ تجویز یہ ہے کہ جمعیتہ کی مرکزی قیادت سے لے کر صوبائی اور ضلعی قیادت کے لئے ٹرم یعنی مدت کو مقرر کیاجائے گا جمعیتہ کے تنظمیمی ڈھانچہ کی جو ہیئت ہے اس میں صدر اور ناظم اعلی (جنرل سکریٹری ) ہوتا ہے یہ کلیدی عہدے ہیں -تجویز کے مطابق صدر سے لے کر ناظم اعلی تک کو صرف دو مدت تک منتخب یا نامزد کیا جاسکے گا -یہ فیصلہ نئے خون اور باصلاحیت افراد کو مرکز سے لے کر ضلع تک کی سطح تک خود کو ثابت کرنے کا موقع فراہم کرے گا اور اوپر سے نیچے تک قیادت کا مضبوط تسلسل قائم کرے گا -عام طور سے مسلم تنظیموں کی روایت رہی ہے کہ جو ایک بار منٹخب ہوتا ہے وہ دہائیوں تک اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے بلکہ بعض تو تاحیات اپنی خدمات سے ملک و قوم کو مستفید کرتے رہتے ہیں جمعیتہ کی تاریخ میں بھی یہ روایت رہی ہے ،مثال کے طور پر مولانا حسین احمد مدنی 17 سال صدر کے عہدے پر رہے ،مفتی کفایت اللہ نے بیس سال صدارت کا عہدہ سنبھالا ، مولانا اسعد مدنی نے 33سال تک صدر کے عہدے کو رونق بخشی اور مولانا عثمان منصور پوری بارہ سال تک صدر کے عہدے پر جلوہ افروز رہے-اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روایتی طریقوں کے سبب علاقائی سے قومی سطح تک نئی قیادت کو ابھرنے اور سامنے آنے کا موقع نہیں مل پاتا-
اب موجودہ صدر جمعیتہ مولانا محمود مدنی نے جرآت سے کام لے کر جمہوری روشندان کھولنے اور تازہ ہواؤں کے لئے راستہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے -گرچہ جمعیتہ سے خود کو جمہوری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور اصولوں کے دائرہ میں رہ کر مستقبل میں مزید اقدامات کی توقع کی جاسکتی ہے مگر ایک روایت پسند تنظیم اگر اتنا بڑا یوٹرن لیتی ہے اور مرکزی قیادت بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہوگی تو یہ انقلابی قدم ہوگا-کلیدی عہدوں پر دو ٹرم کی پابندی سے جمعیتہ دیگر مسلم مذہبی تنظیموں کے لئے بھی مثال قائم کرسکتی ہے









