نی دہلی ،جموں و کشمیر کی سیاست میں انتخابی آواز سنائی دینے لگی ہے۔ اس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کی کانگریس سے علیحدگی اور اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ بی جے پی کے ریاستی کور گروپ کی میٹنگ اس کے اشارے ہیں۔ حالانکہ اسمبلی انتخابات میں ابھی وقت باقی ہے لیکن مستقبل کے اقتدار کے لیےنئ صف بندیاں زور پکڑنے لگی ہیں۔ غلام نبی آزاد نے کانگریس سے الگ ہوکر بی جے پی کی راہ آسان کردی ہے وہیں بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ پی ڈی پی کی طرح بعد از انتخابات بی جے پی کی مدد سے وزیر اعلی پن سکتے ہیں ۔ان کی بی جے پی قیادت سے نزدیکیاں ڈھکی چھپی نہیں ہے ہیں جموں کی سیاست آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بہت بدل گئی ہے جس نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیا تھا اور دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں لداخ اور جموں و کشمیر کی تشکیل کی تھی۔ متحدہ جموں و کشمیر میں نظریاتی حریف پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کر کے اقتدار کا مزہ چکھنے والی بی جے پی ایک بار پھر نئے ڈیزائن کردہ جموں و کشمیر میں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اسمبلی انتخابات اگلے سال کے آخر میں یا لوک سبھا کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ تب تک نئی حد بندی کے ساتھ ووٹر لسٹوں سمیت تمام انتخابی عمل بھی مکمل کر لیا جائے گا۔ نئی اسمبلی کی نشستیں بھی 83 سے بڑھ کر 90 ہو گئی ہیں۔ جس میں جموں ریجن میں سیٹوں کی تعداد 37 سے بڑھ کر 43 اور کشمیر ریجن میں 46 سے بڑھ کر 47 ہو گئی ہے۔ یعنی جموں خطہ کو زیادہ سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔نیشنل کانفرنس، بی جے پی، پی ڈی پی اور کانگریس جموں و کشمیر کی سیاسی ریاضت میں بڑی طاقتیں ہیں۔
اس کے علاوہ چھوٹی مقامی جماعتیں بھی یہاں کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اب غلام نبی آزاد کے کانگریس چھوڑنے سے حالات مزید بدلیں گے۔ چونکہ غلام نبی آزاد کا اثر وادی چناب میں ہے جس میں ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن نمایاں ہیں۔ ایسے میں غلام نبی آزاد تقریباً دو درجن سیٹوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آزاد کی پارٹی اکیلے الیکشن لڑنے کی صورت میں، وہ بھلے ہی سیٹیں کم جیتے ، لیکن اس سے کئی سیٹوں کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ بات یہ بھی ہے کہ فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور آزاد کی ممکنہ پارٹی کے درمیان اتحاد ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو نئی صف بندیاں سامنے آئیں گی۔








