جونپور:کسی زمانہ میں شیرازہندکے نام سے مشہور اتر پردیش کا عظیم شہر جونپور ان دنوں کافی سرخیوں میں ہے۔ ایک طرف یہاں لوک سبھا انتخابات ہونے کی وجہ سے اور دوسری طرف یہاں سے ایم ایل اے رہے مافیا دھننجے سنگھ کی وجہ سے یہ نام ہر روز خبروں میں نظر آتا ہوگا۔ اب ایک اور معاملہ میں جونپور بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ لیکن اس بار معاملہ سیاست سے نہیں بلکہ مندر اور مسجد سے جڑا ہوا ہے۔ سنگھ سر سنچالک کے اس بیان کے باوجود کہ ہر مسجد میں مندر تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کسی نہ کسی مسجد کے مندر ہونے کا دعوی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے-چنانچہ جونپور کی عدالت میں ایک کیس نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
بھارت سماچار کے مطابق معاملہ ایک مسجد کو مندر قرار دینے کا دعویٰ عدالت میں بہنچا ہے ۔ درحقیقت جونپور کی مشہور اٹالہ مسجد کو اٹل ماتا کا مندر بتاتے ہوئے عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ جس کے تحت یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مسجد 14ویں صدی میں بنائی گئی تھی۔ لیکن اس سے پہلے ایک مندر تھا جو اٹل ماتا مندر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لیکن 14ویں صدی میں ابراہیم شاہ شرقی کے حکم پر اس مندر کو مسمار کر کے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔
اس معاملے پر آگرہ کے وکیل اجے پرتاپ سنگھ نے اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ اور اٹالہ مسجد کی انتظامی کمیٹی کے خلاف دعویٰ دائر کیا ہے۔ تاہم کیس کی سماعت 22 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ بھارت سماچار نے آگے بتایا کہ مندر کی جانب سے عدالت میں دلائل پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مندر کے باقی ماندہ باقیات اب بھی وہاں موجود ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اس وقت یہ تاریخی یادگار آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) محکمہ کے تحت محفوظ ہے۔









