مودی سرکار کے دور میں ملک کی سیاست جس تیزی کے ساتھ اپنے معنی بدل رہی ہے اس میں دو باتیں خاص ہیں ایک مسلمانوں کی تہذیبی علامات ختم کرنے کی کوشش ،دوسرے بابری مسجد کو انہدام کی حد تک پہنچانے والے کرداروں کی پذیرائی۔
گزشتہ دنوں اڈوانی اور نرسمہا راؤ کو بھارت رتن سے نوازا گیا،اس سے قبل کلیان سنگھ کو گورنر بنایا گیا تھا جو عدالت سے بد عہدی کے جرم میں ایک دن کی سزا کاٹ چکے تھے
اور اب بی جے پی نے مہاراشٹر سے جن لوگوں کو راجیہ سبھا بھیجنے کا اعلان کیا ہے ان میں سے ایک وہ ہیں جو بابری مسجد انہدام کےدوران گنبد پر کھڑے تھے۔ جو کار سیوا کے کام میں لگے تھے۔ ان کا نام ڈاکٹر اجیت گوپچڑے ہے۔ جو تصویر میں گنبد پر چڑھے مبینہ کارسیوکوں میں سب سے آخر میں ہیں یہ تصویر راہل بھٹ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ہے اور اسے دی وائر نے شئیر کیا ہے حال ہی میں بی جے پی نے مہاراشٹر سے گوپچڑے کے علاوہ کانگریس کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان اور سابق ایم ایل اے میدھا کلکرنی کو اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔
اور ہاں ایسا نہیں کہ اس حمام میں صرف بی جے پی برہنہ ہے کم وبیش ساری پارٹیاں ننگی ہیں ۔مثلا مسلمانوں کے “مسیحا”ملائم سنگھ نے ٹوٹی مسجد کی اینٹیں ڈھونے والوں کو راجیہ سبھا پہنچایا اور انہیں ایم ایل اے بنایا،کلیان سنگھ سے مل کر سرکار بنائی-اور موجودہ وقت کا عبرت انگیز نظارہ دیکھئے کہ کانگریس نے اس شیوسینا سے مل کر سرکار بنائی جو ببانگ دہل کہتی رہی ہے کہ اس کے کارکنوں نے مسجد کو توڑا تھا ۔اگرچہ قومی سیاست میں مسلمان اس پوزیشن میں نہیں کہ اس کی خوشی یا ناراضگی دیکھ کر فیصلے کئے جائیں ۔ہمارے بعض ہمدرد اسے “پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے” بھی تعبیر کرتے ہیں۔
اس مقام بے بسی تک پہنچانے والوں میں وہ بھی ہیں جن کو ہمارے ,مقدس حضرتوں, اور ,حضورعالی مقامات ,نے کندھوں پر بٹھا کر مسند اقتدار تک پہنچایا تھا۔اب ناراضگی ،احتجاج تو دور ناگواری کے اظہار کی سکت و جرات بھی نہیں رہی
بہر حال ایک کام تو ہر حال میں کرسکتے ہیں کہ بابری مسجد کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کو (جو اب بھی جاری ہیں )یاد رکھیں اور اپنی نسلوں کو بھی واقف کراتے رہیں- حوصلے باقی رہیں تو ہاری جنگ جیتنے کا امکان باقی رہتا ہے









