اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کابل ایئرپورٹ حملہ: نام نہاد دولتِ اسلامیہ یا داعش خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کابل ایئرپورٹ حملہ: نام نہاد دولتِ اسلامیہ یا داعش خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟
59
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کابل :

اگرچہ مغربی ممالک کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، پھر بھی اس کے حملہ آور کابل کے ہوائی اڈے اور اس کے قریب واقع بیرن ہوٹل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

اس حوالے سے کئی لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ تنظیم کیا ہے اور اگر طالبان کا واقعی پورے ملک پر قبضہ ہے تو دولت اسلامیہ خراسان کابل کی سب سے اپم عمارت یعنی ہوائے اڈے کو نشانہ بنانے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

اس سوال کا جواب دینے سے قبل ہمیں اس تنظیم کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

دولتِ اسلامیہ 2019 تک افغانستان اور پاکستان میں داعش خراسان کے نام سے سرگرم تھی تاہم اسی برس مئی میں پاکستان کو ایک علیحدہ صوبہ قرار دے دیا گیا۔

خراسان اس خطے کا ایک تاریخی نام ہے اور اس میں موجودہ پاکستان، ایران، افغانستان اور وسطیٰ ایشیا کے کچھ علاقے شامل ہیں۔

اس تنظیم کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی اور اطلاعات کے مطابق اس میں پاکستانی اور افغان طالبان کے سابق اراکین شامل ہیں۔

(فائل فوٹو)

دولتِ اسلامیہ خراسان کی موجودہ صورتحال

اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے مطابق تنظیم نے کابل سمیت افغانستان اور پاکستان کے کئی علاقوں میں سلیپر سیل بھی قائم کیے ہوئے ہیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یہ گروہ افغان طالبان سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور خیال ہے کہ ان کی طالبان سے جانی دشمنی ہے کیونکہ یہ گروہ طالبان جنگجوؤں کو واجب القتل تصور کرتا ہے۔

دولت اسلامیہ نے فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے ہونے والے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے لڑائی جاری رکھنے کا عزم کیا تھا۔ پھر حال ہی میں انھوں نے طالبان کے ملک پر قبضے کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ انھیں خفیہ معاہدے کے تحت ملک کی چابیاں پکڑا کر چلا گیا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اندازے کے مطابق اس وقت افغانستان میں دولت اسلامیہ خراسان کے جنگجوؤں کی تعداد 500 سے لے کر کئی ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ تنظیم کو 2019 کے اوآخر میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اگلے سال کے اوائل میں ہی اس کے سینئر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم اس کے بعد سے اس گروہ کی صلاحیتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اور اس نے امن مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اقوامِ متحدہ اور امریکہ کے اندازوں کے مطابق ان شکستوں کے بعد دولتِ اسلامیہ خراسان اب مختلف خفیہ سیلز کے ذریعے اپنے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ملک کا شاید ہی کوئی علاقہ ان کے باقاعدہ قبضے میں ہے۔

تاریخی پس منظر

محقق عبدالسید کے مطابق افغانستان میں دولتِ اسلامیہ خراسان نے اس وقت سر اُٹھایا جب پاکستانی طالبان کے سابقہ اہم کمانڈروں نے پاکستان کے سابقہ خیبر ایجنسی کی تیراہ وادی میں 2014 کے آواخر میں اس کی بنیاد رکھی۔

القاعدہ کی پاکستانی قیادت کی تحریروں اور بیانات سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان کے قیام کے ساتھ ہی خطے میں القاعدہ کے اکثر ارکان نے اس نئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

مگر جلد ہی فوجی آپریشن کی وجہ سے وہ وہاں سے دیگر عسکریت پسندوں کی طرح افغانستان کے ملحقہ صوبہ ننگرہار منتقل ہوگئے۔

اگرچہ دولت اسلامیہ خراسان کی بنیاد رکھنے والی قیادت کی اکثریت کا تعلق پاکستان سے تھا مگر جلد ہی اس کے اندر افغانستان کے لوگوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہو گئی۔

دولتِ اسلامیہ نے جلد ہی یہاں پر افغان طالبان اور افغان حکومتی فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں اور اس طرح ننگرہار کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

یہاں دولت اسلامیہ کا اثرورسوخ تب مزید مضبوط ہوا جب طالبان اور افغان فوج کے ساتھ شدید جھڑپوں اور امریکی فوجی حملوں میں انھیں شدید جانی نقصانات کی وجہ سے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے جنگجوؤں نے فرار ہو کر کنڑ کے بعض اضلاع کو اپنا گڑھ بنا لیا۔

اس میں سرفہرست دولت اسلامیہ خراسان کے سابق سربراہ شیخ ابو عمر خراسانی کا آبائی ضلع سوکئی اور اس سے متصل پرپیچ پہاڑی ہیں جو کنڑ میں تنظیم کے مضبوط گڑھ بن گئے۔ تاہم طالبان، افغان فورسز اور امریکی فضائی حملے جلد یہاں بھی ان کا پیچھے کرتے آئے اور بلآخر فروری 2020 میں تنظیم کا یہاں سے بھی مکمل صفایا کردیا گیا۔

دولت اسلامیہ خراسان کے باقی ماندہ جنگجوؤں نے طالبان کے ہاتھوں موت سے بچنے کے لیے افغان حکومت کے آگے ہتھیار ڈال دیے جن میں سے اکثریت کو کابل کے بگرام اور پل چرخی جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

گذشتہ برس مئی میں شیخ ابو عمر خراسانی کو اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ کابل سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اتنی سکیورٹی کے باوجود کابل ایئرپورٹ پر حملہ کیسے ممکن ہوا؟

عبدالسید کے مطابق اس کے بعد دولت اسلامیہ خراسان کی سربراہی کے لیے ڈاکٹر شہاب المہاجر نامی ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا جن کا تعلق مشرق وسطٰی سے ہے اور وہ ماضی میں اس خطے میں القاعدہ سے وابستہ رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں جب طالبان نے یہ جیلیں توڑیں تو دیگر قیدیوں کے ساتھ ساتھ دلت اسلامیہ کے بھی کئی قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم اطلاعات کے مطابق تنظیم کے 80 سے 250 ارکان فرار ہونے کی کوشش میں مارے گئے۔

محقق عبدالسید لکھتے ہیں کہ جنگجوؤں کے بڑے پیمانے پر مارے یا پکڑے جانے کے بعد دولت اسلامیہ خراسان حالیہ دنوں میں کابل سے نئی بھرتیاں کر رہی ہے۔ یہ نیٹ ورک تجربہ کار، پڑھے لکھے اور انتہائی کٹر سلفی جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔

ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر سجن گوہل کئی برسوں سے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس پر تحقیق کر رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے فرینک گارڈنر سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ‘سنہ 2019 سے سنہ 2021 کے درمیان ہونے والے کچھ بڑے حملے حقانی نیٹ ورک، دولت اسلامیہ خراسان اور پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے باہمی تعاون سے ہوئے تھے۔ لیکن دولت اسلامیہ کے طالبان سے بڑے اختلافات ہیں۔ وہ ان پر قطر میں ‘پرتعیش ہوٹلوں میں بیٹھ کر امن معاہدے کرنے اور میدان جنگ اور جہاد ترک کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو اب آنے والی طالبان کی حکومت کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو طالبان اور مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان مشترک ہے۔

(بشکریہ : بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN