بنگلور :(ایجنسی)
شیموگہ میں فرقہ وارانہ تشدد آج بھی جاری ہے۔ متعدد گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کل رات بھی آزاد نگر میں مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کیا گیا، پتھراؤ کیا گیا، لوگوں کو مارا پیٹا گیا۔ حجاب پر پابندی کے خلاف درخواست دینے والی طالبہ کے بھائی اور اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کے املاک کو لوٹ لیا گیا۔ حکومت کی جانب سے شیموگہ کے انچارج وزیر کے سی نارائن گوڑا نے دعویٰ کیا کہ شہر میں حالات قابو میں ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق وزیر نارائن گوڑا نے کہا کہ لوگ پریشان نہ ہوں، حالات جلد معمول پر آجائیں گے۔
وزیر نے کہا کہ آج صبح شرپسندوں نے کچھ گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ دو آٹو اور ایک بائک کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ قبل ازیں کل رات شیموگہ میں آزاد نگر اور دیگر مقامات پر ایک مخصوص برادری سے تعلق رکھنے والے مکانات کی نشاندہی کی گئی اور پتھراؤ کیا گیا۔ حملے کیے گئے۔ یہاں کی مسلم تنظیموں نے کہا کہ بجرنگ دل کے لیڈروں اور کارکنوں کی بھیڑ نے مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کیا۔ ان لوگوں نے شہر میں کئی مقامات پر آتش زنی بھی شروع کر دی ہے۔
کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے حکومتی حکم نامے کو چیلنج کرنے والی طالبہ ہاجرہ شفا کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔ ہاجرہ شفا نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بھائی پر دائیں بازو کے حامیوں کی بھیڑنے حملہ کیا۔ ان کے بھائی سیف پر پیر کی رات تقریباً 9 بجے اڈوپی ضلع کے مالپے میں بسم اللہ ہوٹل میں حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اس لیے ہوا کہ میں حجاب پر پابندی کے خلاف ہوں۔ اس حملے میں ہماری املاک لوٹ لی گئیں۔ لیکن کیوں ؟ کیا میں حجاب پہننے کا حق بھی نہیں مانگ سکتی؟ میں سنگھ پریوار کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی ہوں۔ ہاجرہ نے اپنے ٹویٹ میں پولیس کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے واقعے کی معلومات دی۔
مالپے پولیس اسٹیشن کے ایک پولیس افسر نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ اس حملے میں تقریباً 20-30 لوگ ملوث تھے۔ ان میں سے اکثر سیف کو جانتے تھے، طالبہ کے بھائی، اور وہ اس کا دوست ہے۔ سیف کے والد نے حجاب کے تنازع پر ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ جس کی تشہیر مقامی کنڑ چینل نے کی تھی۔ اس سے شرپسند مشتعل ہوگئے اور وہ ہوٹل پہنچے اور سیف پر پتھراؤ کیا۔ حملہ کرنے والوں میں سے کچھ نے شراب بھی پی رکھی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں تین لوگوں کے خلاف مارپیٹ کا مقدمہ درج کیا ہے۔
کرناٹک میں حجاب مخالف مظاہرے دسمبر میں شروع ہوئے تھے۔ تب سے یہ ریاست کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ کرناٹک حکومت نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسکولوں کو عارضی طور پر بند کردیا۔










