نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کے بارے میں کہا ہے کہ متبادل کی کمی کی وجہ سے ایساہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہاتھ پرہاتھ رکھے بیٹھا رہا۔ دہلی کے بعد پنجاب میںجیت سے پرجوش عام آدمی پارٹی (آپ) کے کنوینر نے 130 کروڑ عوام کا گٹھ بندھن بنانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے قومی سطح ھر توسیع کا اشارہ دیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں کیجریوال نے ہندوتوا کی تعریف بتاتے ہوئے بی جے پی کو بھی نشانہ بنایا۔
انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے اروند کیجریوال سے پوچھا گیا کہ اگر آپ بی جے پی کے ہندوتوا کو فرقہ پرست کہتے ہیں تو کیا آپ اسے کاؤنٹرکریں گے؟ اس کے جواب میں کیجریوال نے کہا، ’’نہ تو میری بی جے پی سے لڑائی ہے اور نہ ہی میری کانگریس سے لڑائی ہے۔ میں نے کئی بار ہندوتوا کی تعریف کی ہے۔ میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور پورا ملک اس پر یقین رکھتا ہے۔ رامائن اور گیتا میں جو کچھ لکھا ہے وہ ہندوتوا ہے۔ رامائن میں بھگوان رام کے کہے گئے الفاظ ہندوتوا ہیں۔ بھگوان رام نے ایک دوسرے سے نفرت کرنا نہیں سکھایا۔ بھگوان رام سبری کا جوٹھا بیر کھاتے ہیں، اور یہ لوگ دلتوں کولنچنگ کراتے ہیں ۔
اگر بی جے پی کا ہندوتواصحیحنہیں ہے تو اسے یوپی میں اتنے ووٹ کیسے ملا؟ اس کے جواب میں کیجریوال نے کہا، ’’کوئی اپوزیشن باقی نہیں ہے۔ جب صرف ایک ہی پارٹی ہو اور سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں تو پھر کوئی چارہ نہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ دہلی میں بی جے پی کو پچھلی بار 3 اور اس بار 8 سیٹیں ملی ہیں۔ انہوں نے مجھے جم کر گالیاں دیں۔ آج بھی دیا، میں نے تو جواب ہی نہیں دیا۔
کیا کانگریس قومی کھلاڑی بننے پرفوکس کرے گی؟ اس کے جواب میں کیجریوال نے کہا کہ وہ ابھی بھی بہت چھٹے آدمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ملک کا عام آدمی ہوں اور عام آدمی کے مسائل میرے مسائل ہیں۔ اس ملک کا عام آدمی کیا چاہتا ہے؟ وہ چاہتا ہے کہ مجھے روزگار ملے تاکہ میں بچوں کا پیٹ پال سکوں۔ آج ملک میں روزگار نہیں ہے۔ ہماری پارٹی صرف روزگار کی بات کرتی ہے۔ ہم نے بجٹ میں 20 لاکھ نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے۔ میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں عام آدمی کے درد کو سمجھتا ہوں۔ عام آدمی کو بچوں کے لیے تعلیم اور اچھی صحت کی ضرورت ہے، سب فراہم کی جا رہی ہے۔
قومی سطح پر آپشن بننے کے سوال پر کیجریوال نے کہا کہ ملک کے اندر لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ دو ریاستوں میں ایک ایماندار پارٹی آگئی ہے۔ میرے سامنے راشٹرکو کھڑا کرنے کا … سیاست میں آنے سے پہلے ہم بھی سوچتے تھے کہ آج تک اسکول – اسپتال خراب ہیں اس کا مطلب یہ مشکل کام ہے ۔ کانگریس – بی جے پی سب کی سرکار آچکی ہے۔ اب ہم نے آکردیکھا کہ یار 5 سال میں ہی ہو گیا۔ ہو تو سکتا ہے ۔ انہوںنے جان بوجھ کر خراب کیا۔ پیسے کھائے، ملک کو لوٹا ۔ یا تو یہ سدھر جائیں یا پورا ملک بدلے گا۔ میرے سامنے ملک ہے ۔ 130 کروڑ لوگوں کا گٹھ بندھن بنائیں گے ۔ مجھے ان پارٹیوں کے گٹھ بندھن سے مطلب نہیں ۔










