نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹیلی گرام پر عارضی پابندی کے حکومتی فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے "مضحکہ خیز” اور غیر ضروری قدم قرار دیا ہے۔ کیجریوال کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پابندیاں مسائل کا حل نہیں بلکہ اظہارِ رائے، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی رابطوں کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
"پیپر لیک ہزاروں کروڑ کا کاروبار ہے”
اروند کیجریوال نے حکومت پر سنگین سیاسی الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پیپر لیک کا دھندہ اب ایک باقاعدہ انڈسٹری بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا:
"پیپر لیک کا بزنس ہزاروں کروڑ روپے کا ریکیٹ ہے اور یہ پیسہ بالکل اوپر تک جاتا ہے۔ اگر پیپر لیک بند ہو گئے، تو ایم ایل ایز (MLAs) اور ایم پیز (MPs) خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟”
ٹیلی گرام کے سی ای او پاول ڈوروف کا ردِعمل
دوسری جانب ٹیلی گرام کے بانی اور سی ای او پاول ڈوروف نے بھی بھارت کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند صارفین کی غلطی کی وجہ سے بھارت میں ٹیلی گرام کے 15 کروڑ سے زائد عام صارفین کو سزا دینا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ پیپر لیک کرنے والے اب دوسرے ایپس پر منتقل ہو چکے ہیں۔ ٹیلی گرام نے اس فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر لیا ہے








