مختار انصاری کے نام پر ان کی موت کے بعد میں سیاست کا بازار گرم ہے -اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے مختار انصاری کے اہل خانہ سے ملاقات کو لے کر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل یوگی نےبھی اشاروں میں طنز کیا تھا کہ ہم صرف رام کو ہی نہیں لاتے بلکہ رام نام ستیہ ہوجاتا ہے -جس پر مختار کے بھائی اور رکن پارلیمنٹ افضل انصاری نے جوابی وار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیشو موریہ خود ایک مافیا ہے، ایک وقت میں ان کے خلاف 16 مقدمات تھے اور وہ دفعہ 302 کے تحت ملزم ہیں۔
نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق جب اکھلیش یادو سے کیشو پرساد موریہ کے اس تبصرہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ سماج وادی پارٹی ہمیشہ غنڈوں کی حمایت کرتی ہے، تو ایس پی سربراہ نے کہا تھا کہ ان (کیشو پرساد) سے بڑا مجرم کوئی نہیں ہو سکتا۔
دراصل، اکھلیش یادو 7 اپریل کو آنجہانی مختار انصاری کے انتقال پر اظہار تعزیت کرنے غازی پور پہنچے تھے اور ان کے بڑے بھائی افضل انصاری کے ساتھ وہاں موجود لوگوں سے ملے تھے۔ ان کے جانے کے بعد افضل انصاری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یوپی کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ کے اکھلیش یادو کو مغرور بتانے والے بیان پر جوابی حملہ کیا اور انہیں مافیا قرار دیا۔
افضل انصاری نے کہا کہ ‘کیشو موریا کے خلاف 16 مقدمات تھے، وہ 302 کا ملزم ہے اور خود ایک مافیا ہے، وہ اسمبلی انتخابات ہار گئے لیکن یہ وہ بے شرم لوگ ہیں جو ہارنے کے بعد بھی عہدہ قبول کرتے ہیں، ایسے لوگ لمبی لمبی باتیں کرتے ہیں۔









