بھوپال :(ایجنسی)
کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کے خلاف بھوپال سمیت ریاست کے پانچ شہروں میں مدھیہ پردیش کے کھرگون میں رام نومی پر تشدد سے متعلق ٹویٹ کرنے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ سنگھ کے خلاف بھوپال کے پرکاش مانڈے کی شکایت پر منگل کی شام کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ خبر ایجنسی پی ٹی آئی کو ایک افسر نے بتایا – چار مزید ایف آئی آر منگل کی رات کوگوالیار، جبل پور، نرمداپورم اور ستنا میں درج کی گئیں۔
جن ستا کی رپورٹ کے مطابق ریاستی بی جے پی صدر وی ڈی شرما نے اس معاملے پر انہیں اور ان کی پارٹی کو گھیر لیا ہے۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ سنگھ ہمیشہ سازشوں میں ملوث رہے ہیں اور کانگریس کی عبوری سربراہ سونیا گاندھی نے انہیں تحریکوں کا انچارج بنایا ہے۔
شرما نے منگل کو خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا، ’’دگ وجے ہمیشہ سے سازش کرتے رہے ہیں۔ ان کا ٹویٹ مجرمانہ سازش سے متعلق ہے، جس کا مقصد ملک کا ماحول خراب کرنا ہے۔ انٹیلی جنس کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ سونیا انہیں تحریکوں کا انچارج بنا رہی ہے تاکہ وہ میڈیا میں نظر آئیں۔
بھوپال کی رہنے والی شکایت کنندہ مانڈے نے کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پر ایک من گھڑت تصویر شیئر کرکے اسے کھرگون تشدد سے جوڑنے کا الزام لگایا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس ٹویٹ سے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل سکتی ہے اور مدھیہ پردیش میں مذہبی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔

وہیں بھوپال پولس کمشنر مکرند دیوسکر نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ٹویٹ کی شکایت کی بنیاد پر کرائم برانچ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ153-A (مذہب، ذات ، مقام پیدائش کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 295-A (مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے ارادے سے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی عمل)، 465 (جعل سازی)،505(2) (عوامی شرارت) تعزیرات ہند کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دریں اثناء بدھ کی صبح ٹی وی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سنگھ کے خلاف ہوشنگ آباد کے نرمداپور پولیس اسٹیشن میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، ایم پی کے کابینہ وزیر وشواس سارنگ نے کہا کہ دگ وجے ایک مجرم ہیں۔ اس سلسلے میں مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں دگ وجے سنگھ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
حالانکہ سنگھ نے بدھ کو واضح کیا،’ فرقہ وارانہ ہسٹیریا کے خلاف بولنے پر اگر میرے خلاف ایک نہیں ایک لاکھ بھی ایف آئی آر درج ہو جائیں تو مجھے افسوس نہیں ہے۔ میں نے اپنے ٹویٹ میں بھی سوال پوچھا تھا کہ وہ تصویر کھرگون کی نہیں تھی، اس لیے میں نے وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ بی جے پی میرے خلاف نہیں بلکہ پورے ملک کے خلاف ایجنڈا چلا رہی ہے۔
درحقیقت، پیر (11 اپریل 2022) کی صبح ایک ٹویٹ میں سنگھ نے ایک تصویر (کسی دوسری ریاست میں مسجد کی تصویر) پوسٹ کی تھی۔ اس میں کچھ نوجوانوں کو ایک مسجد میں زعفرانی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ انہوں نے اس تصویر کے ساتھ کھرگون میں رام نومی جلوس کے دوران ہوئے تشدد کا حوالہ دیا۔ بعد میں انہوں نے اس تصویر کو ٹویٹ سے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
اس سے پہلے دن میں، دگ وجے سنگھ نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ایک تصویر کے ساتھ کہا ، ’کیا کھرگون انتظامیہ نے لاٹھی، تلوار جیسے ہتھیار لے جانے والے جلوس کی اجازت دی تھی؟ کیا جنہوں نے پتھر پھینکے چاہے جس مذب کے ہوں تمام کے گھر پر بلڈوزر چلے گا؟ شیوراج جی، مت بھولیں آپ نے غیر جانبداری سے حکومت چلانے کا حلف لیا ہے۔
بعد میں، بھوپال کے ایم ایل اے رامیشور شرما سمیت بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے سنگھ کی طرف سے پوسٹ کی گئی تصویر پر سوالات اٹھائے۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ سنگھ کی پوسٹ کردہ تصویر بہار کے مظفر پور کی ہے۔ سنگھ کی طرف سے ہوسٹ ہٹانے کے بعد، وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے بھی ٹویٹر پر کہا کہ دگ وجے سنگھ نے ایک مذہبی مقام پر بھگوا پرچم لہرانے والے نوجوانوں کی تصویر ٹویٹ کی تھی جو مدھیہ پردیش سے نہیں تھی۔
چوہان نے کہا کہ یہ ٹویٹ ریاست میں مذہبی جنونیت پھیلانے اور ریاست کو فسادات کی آگ میں دھکیلنے کی سازش ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے الزام لگایا کہ سنگھ انتشار پھیلا کر فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانونی رائے لے گی کہ کیا کارروائی ہو سکتی ہے۔ بتادیں کہ اتوار کی شام کھرگون شہر میں رام نومی جلوس کے دوران پتھراؤ اور آتش زنی کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔










